جمعہ، 27-مارچ،2026
جمعہ 1447/10/08هـ (27-03-2026م)

موثر حکمرانی کے بغیر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں: احسن اقبال

27 مارچ, 2026 18:18

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی تبدیلی کا انحصار محض پالیسی سازی پر نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی پر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ادھوری رہتی ہے، جبکہ صوبائی دارالحکومت دور دراز علاقوں کے مسائل مؤثر انداز میں حل نہیں کر سکتے۔

یہ بات انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (SDPI) اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی اور انتظامی چیلنجز کے پیش نظر شواہد پر مبنی اصلاحات کو فوری طور پر عملی شکل دینا، خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا، شفاف مالیاتی نظم و نسق کو فروغ دینا اور وفاقی، صوبائی و ضلعی سطح پر ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکمرانی ہی تبدیلی اور جمود کے درمیان اصل فرق پیدا کرتی ہے اور اس کا اثر شہریوں کی روزمرہ زندگی میں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی بہتر فراہمی کی صورت میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں منصوبوں کی کمی نہیں بلکہ اصل مسئلہ مؤثر عملدرآمد اور ادارہ جاتی کمزوری ہے۔ اس لیے روایتی طریقہ کار ترک کر کے جامع اور نتیجہ خیز اصلاحات اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئندہ اصلاحات میں صوبائی اور مقامی سطح کو یکساں اہمیت دی جائے اور اس عمل میں حکومت کے ساتھ ساتھ تھنک ٹینکس، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کا کردار بھی اہم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا اصل چیلنج اپنی صلاحیت کو عملی کارکردگی میں تبدیل کرنا ہے، جو صرف بہتر حکمرانی سے ہی ممکن ہے۔

اس موقع پر یو این ڈی پی پاکستان کے نمائندہ سموئیل رزق نے کہا کہ عالمی سطح پر ترقیاتی وسائل محدود ہونے کے باوجود حکمرانی کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کی وہ مستحق ہے، حالانکہ پائیدار ترقی کے لیے یہ بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ SNG-II پروگرام نے مضبوط اداروں کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے جو بحرانوں اور مالی مشکلات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔

تقریب کے آغاز میں ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں اور علاقائی تبدیلیوں کے باعث حکمرانی کے نظام کو زیادہ متحرک اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مکالمہ "اڑان پاکستان” پروگرام کے تحت ہونے والی قومی سطح کی گفتگو کو صوبائی تناظر میں آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔

اسی دوران یو این ڈی پی کی نائب نمائندہ وان نگوین نے کہا کہ SNG-II پروگرام کا مقصد صوبائی سطح پر منصوبہ بندی، ہم آہنگی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی کی آزادانہ تحقیق مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

برطانوی ادارے ایف سی ڈی او کے نمائندہ میٹ کلینسی نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کئی اہم ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی گئیں، جن میں منصوبہ بندی کے نظام میں بہتری، ڈیجیٹل پی سی ون عمل، آڈٹ نظام، پنشن اصلاحات اور مربوط بجٹ سازی شامل ہیں۔

ایس ڈی پی آئی کے عرفان چٹھہ نے تحقیق کے نتائج پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی سطح پر تکنیکی ماہرین کو برقرار رکھنا، اصلاحات کو قانونی تحفظ دینا اور صوبائی آئی ٹی بورڈز کے ساتھ بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ ڈیجیٹل حکمرانی کے نظام کو دیرپا بنایا جا سکے۔

پالیسی مکالمے کے دوران ماہرِ حکمرانی سلیمان غنی نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے پروگراموں کو حکومتی اصلاحاتی حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی پائیداری اور ملکیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مکالمے کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ SNG-II پروگرام کے تحت متعارف کرائی گئی اصلاحات، جیسے تکنیکی معاونت، اصلاحاتی ورکنگ گروپس اور ڈیجیٹل نظام، پاکستان میں نچلی سطح کی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ عمل ماڈل فراہم کرتی ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔