ٹرمپ کی ایران کو دھمکیوں سے ایشیائی منڈیاں کریش

امریکی صدر کی جانب سے ایران کی بجلی کی تنصیبات اور تیل کے مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد ایشیائی حصص بازار شدید مندی کا شکار ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوب گئے۔
مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی جنگ کے سائے ایشیائی اسٹاک مارکیٹس پر منڈلانے لگے ہیں، جہاں سرمایہ کاروں میں شدید بے یقینی اور خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سنگاپور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت لہجہ اپنانے اور بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں سمیت جزیرہ خارک کو تباہ کرنے کی دھمکیوں نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
ان دھمکیوں کے بعد سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کر لیا ہے، جس کی وجہ سے حصص کی قیمتوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کو تیار
اگرچہ امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول نے یہ کہہ کر مارکیٹ کو حوصلہ دینے کی کوشش کی ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مہنگائی قابو سے باہر نہیں ہوئی اور شرحِ سود میں فوری اضافے کی ضرورت نہیں، تاہم ان کی یہ یقین دہانی بھی منڈیوں کو سہارا دینے میں ناکام رہی ہے۔
علاقائی سطح پر جنوبی کوریا کا انڈیکس کوسپی ڈیڑھ فیصد تک گر گیا ہے، جبکہ سڈنی کی اسٹاک مارکیٹ میں بھی ایک فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
جاپان کا نکی انڈیکس بھی مندی کا شکار رہا۔ چینی منڈیوں کی صورتحال بھی کچھ خاص بہتر نہیں رہی، جہاں ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ اور شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس گراوٹ کا شکار رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت منڈیوں کے پاس جنگ بندی کی امید کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ ایشیا پیسیفک انڈیکس میں مجموعی طور پر ایک اعشاریہ ایک فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس نے رواں سال کے تمام تر منافع کو ختم کر دیا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











