اتوار، 24-مئی،2026
اتوار 1447/12/07هـ (24-05-2026م)

پنجاب اسمبلی میں جبری تبدیلیِ مذہب کے خلاف بل جمع، پانچ سال قید کی سزا تجویز

31 مارچ, 2026 14:28

پنجاب میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور زبردستی مذہب کی تبدیلی کو روکنے کے لیے بل صوبائی اسمبلی میں جمع کروا دیا گیا ہے، جس میں پانچ سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

پنجاب اسمبلی میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور جبری شادیوں کے خلاف ایک انتہائی اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں پنجاب اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا بل برائے سال 2026 جمع کروا دیا گیا ہے۔

یہ بل قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور کے چیئرمین فیلبوس کرسٹوفر نے بحیثیت پرائیویٹ ممبر جمع کروایا ہے، جس میں مذہب کی جبری تبدیلی کو مکمل طور پر خلافِ قانون قرار دیا گیا ہے اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آزاد کشمیر کے شہریوں کا طالبان رجیم کیخلاف اعلانِ بغاوت، مذہب کی غلط تشریح مسترد

بل کے مطابق کسی بھی فرد کا زبردستی مذہب تبدیل کروانے پر پانچ سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا دی جائے گی۔

مجوزہ بل میں نہ صرف جبری تبدیلیِ مذہب بلکہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی زبردستی شادیوں کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بل میں یہ بھی یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اقلیتی شہریوں کے ساتھ تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں کسی قسم کا امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے۔

بل میں عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں اور صوبائی سطح پر تعلیمی نصاب کے جائزے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ نصاب سے نفرت انگیز اور امتیازی مواد کی نشاندہی کر کے اسے ختم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے وفاقی آئینی عدالت نے بھی اس حساس معاملے پر ایک اہم فیصلہ جاری کیا تھا، جس کے تناظر میں اس بل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔