جمعرات، 18-جون،2026
جمعرات 1448/01/03هـ (18-06-2026م)

بی ایل اے کی دہشت گردی اب عالمی تجارت کے لیے بڑا خطرہ بن گئی، ٹی آر ٹی

18 جون, 2026 11:04

ترک میڈیا کے مطابق بی ایل اے کی دہشت گردی اب صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ عالمی تجارت، علاقائی رابطوں اور عالمی سپلائی چین کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

ٹی آر ٹی ورلڈ کے ایک تفصیلی آرٹیکل میں لکھا گیا کہ بلوچستان کی شاہراہیں اور تجارتی راہداریاں بی ایل اے کے حملوں کے باعث خطرناک زون میں تبدیل ہو رہی ہیں۔

بی ایل اے کا اصل ہدف علاقائی رابطوں کو سبوتاژ کرنا ہے اور ان کی جانب سے ٹرینوں، شاہراہوں اور مال بردار گاڑیوں پر کیے جانے والے حملے بلوچ عوام کے خلاف نہیں بلکہ ان کے روزگار اور ترقی کے خلاف جنگ ہیں۔

امریکا، آسٹریلیا اور برطانیہ پہلے ہی بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں جبکہ اب دیگر ممالک پر بھی ایسا کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے کیونکہ اس تنظیم کا طرزِ عمل القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں سے مشابہ ہوتا جا رہا ہے۔

گوادر بندرگاہ اور بلوچستان عالمی تجارت کے اہم زمینی چوک پوائنٹ ہیں، جہاں عدم استحکام کے عالمی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بی ایل اے کی بلیک لسٹنگ کے لیے امریکہ کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے، امریکی جریدہ

ان حملوں نے سڑکوں، ریلوے اور انفراسٹرکچر منصوبوں کو شدید متاثر کر کے سرمایہ کاری کے ماحول کو نقصان پہنچایا ہے۔

جعفر ایکسپریس حملے سمیت ریلوے نیٹ ورک پر ہونے والے متعدد حملوں نے بلوچستان میں ٹرین سروس کو بار بار معطل کروایا ہے۔

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں دہشت گردی کے تین چوتھائی واقعات صرف بلوچستان میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

سی پیک، توانائی کے منصوبے اور تجارتی راہداریاں ان کا نشانہ بن رہی ہیں، جس سے سیکیورٹی کے اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔

بلوچستان میں امن و استحکام صرف پاکستان نہیں بلکہ چین، خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور یورپی منڈیوں کے مفاد میں بھی ہے کیونکہ اس عدم استحکام کی قیمت پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ عالمی سپلائی چین اور عالمی صارفین بھی ادا کر رہے ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔