بی ایل اے کی بلیک لسٹنگ کے لیے امریکہ کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے، امریکی جریدہ

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق امریکہ کو اقوامِ متحدہ میں بلوچستان لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے کی بلیک لسٹنگ کے لیے پاکستان کی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ یہ تنظیم اب علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق بی ایل اے اور اس کا مجید بریگیڈ افغانستان کے محفوظ ٹھکانوں سے کام کر رہے ہیں اور خطے کے امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔
پاکستان اور چین نے اس تنظیم کو عالمی سطح پر سفارتی اور مالی طور پر تنہا کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ سے رجوع کیا تھا تاکہ اس پر پابندی لگائی جا سکے۔
امریکہ خود بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے، لیکن اس کے باوجود اقوامِ متحدہ میں اس کی مخالفت کرنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
اگر بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جاتا تو اس کے اثاثے منجمد ہو جاتے، اس کے مالی ذرائع اور عالمی نیٹ ورک محدود ہو جاتے اور اس کے ارکان پر عالمی سفری پابندیاں لگنا ممکن ہو جاتیں۔
یہ بھی پڑھیں : بلوچستان میں لیویز فورس کا پولیس میں انضمام مکمل، 32 ہزار سے زائد اہلکار پولیس کا حصہ بن گئے
یہ تنظیم اب تک چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کے منصوبوں، چینی شہریوں اور پاکستانی اہداف کو نشانہ بناتی رہی ہے، لیکن اس کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں مستقبل میں مزید وسیع خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔
امریکہ بھی بلوچستان کے اہم معدنی ذخائر میں دلچسپی ظاہر کر چکا ہے، اس لیے مستقبل میں وہاں امریکی سرمایہ کاری اور عملہ بھی اس تنظیم کے ممکنہ خطرات کی زد میں آ سکتا ہے۔
بی ایل اے اب صرف ایک مقامی گروہ نہیں رہا بلکہ علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی تنظیم بن چکی ہے، جس کے خلاف ایک متوازن اور مؤثر عالمی ردِعمل کی ضرورت ہے۔
صرف علاقائی یا یکطرفہ اقدامات پر انحصار بی ایل اے کے خلاف دستیاب عالمی ذرائع کو محدود کر سکتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں اس قرارداد کو روکنا محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی توازن کا حصہ ہے۔
پاکستان اور چین کے لیے یہ رکاوٹ ایک سفارتی چیلنج ضرور ہے مگر ان کی جانب سے کوششیں جاری رہنے کا امکان ہے۔
اب مستقبل میں امریکی عملی اقدامات ہی یہ طے کریں گے کہ واشنگٹن کا یہ فیصلہ بی ایل اے جیسے گروہوں کے خلاف عالمی جنگ کو مضبوط بناتا ہے یا کمزور۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











