امریکی طیاروں کی ایران کے مختلف شہروں پر بمباری، قشم میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد شہید

پانچ دنوں کے وقفے کے بعد امریکہ نے ایران پر دوبارہ بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیئے، ایران کے جنوبی صوبوں اور جزائر میں متعدد دھماکے سنے گئے۔
امریکی مرکزی کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی فورسز کے ایران کے خلاف فضائی حملے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کا سخت اور بھرپور جواب ہے۔
امریکی ایف 16 اور دیگر جنگی طیاروں نے مشرق وسطیٰ میں پروازیں بھرتے ہوئے ایران میں پاسداران انقلاب کے کمانڈ سینٹرز، میزائل و ڈرون تنصیبات اور ساحلی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ اب امریکی باری ہے اور ایران پر شدید حملہ کیا جائے گا، جس کے بعد ان حملوں کا حکم دیا گیا۔
حملوں کی اس تازہ لہر میں ایران کے جنوبی صوبے جیسے ہرمزگان، خوزستان اور فارس شدید متاثر ہوئے ہیں۔ بندر عباس، قشم، کیش، ابو موسیٰ، اہواز اور آبادان میں زوردار دھماکے سنے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے کویت اور اردن پر جوابی حملے، ایک شخص ہلاک
ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق جزیرے قشم میں رہائشی عمارت پر کیے گئے فضائی حملے کے نتیجے میں 3 افراد شہید ہو گئے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں میاں بیوی اور ان کا 2 سالہ معصوم بچہ شامل ہے جبکہ ملبے سے نکالے گئے 7 اور 9 سال کے دو دیگر بچوں کی حالت تشویشناک ہے اور وہ اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
حملوں کے باعث قشم جزیرے اور اہواز کے کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوئی، جسے بعد میں بحال کر دیا گیا۔
دوسری طرف ایران کے صوبے بوشہر کی انتظامیہ کے مطابق بوشہر کے 3 شہروں بوشہر، جام اور خورموج کے اطراف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
صوبائی سیکیورٹی حکام کے مطابق بمباری کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا تاہم علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یاد رہے کہ صوبہ بوشہر میں ایران کا واحد نیوکلیئر پاور پلانٹ بھی واقع ہے، جس کی وجہ سے خطے کی صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔
سینٹ کام کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاسداران انقلاب کے درجنوں اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر اپنا بڑا آپریشن مکمل کر لیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










