ارکان پارلیمنٹ کا کفایت شعاری پالیسی کے تحت اپنی تنخواہوں میں کٹوتی سے انکار

ملک کی معاشی صورتحال اور حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت ارکان پارلیمنٹ سے تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی کی درخواست کی گئی تھی، جسے اکثر ارکان نے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
خطے کی کشیدہ صورتحال اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی کفایت شعاری مہم کو خود ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ارکان قومی اسمبلی اور سینٹ نے اپنی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسمبلی اور سینٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے تمام ارکان کو پرفارمے بھیجے گئے تھے تاکہ ان کی رضامندی لی جا سکے، تاہم اکثر ارکان نے یہ پرفارمے واپس ہی نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیر اعظم کا کفایت شعاری اقدامات پر سختی کا فیصلہ، نگرانی انٹیلی جنس بیورو کو سونپ دی
ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کا مؤقف ہے کہ ان کا گزارہ پہلے ہی اسی تنخواہ پر بڑی مشکل سے ہوتا ہے اور اتنی بڑی کٹوتی کے بعد ان کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
کچھ ارکان نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ انہیں پرفارمہ ابھی تک موصول ہی نہیں ہو سکا۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جاری اجلاسوں کے دوران شاید کچھ ارکان یہ پرفارمے واپس کر دیں، لیکن فی الحال ارکان کی اکثریت اپنی مراعات میں کسی بھی قسم کی کمی کے حق میں نظر نہیں آتی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












