ایران جنگ کے پہلے ماہ میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا کو 111 ارب ڈالر کا نقصان

ماحولیاتی گروپ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے صرف ایک ماہ کے دوران دنیا بھر کے صارفین اور کاروبار کو تیل و گیس کی مہنگائی کی مد میں 111 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
عالمی سطح پر کام کرنے والے ماحولیاتی گروپ تھری ففٹی ڈاٹ او آر جی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران پر مسلط کردہ جنگ کے ابتدائی ایک ماہ میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس بحران سے عام صارفین اور کاروباری ادارے اب تک 111 ارب ڈالر کی اضافی رقم ادا کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں دنیا اس معاشی بوجھ تلے دب رہی ہے، وہیں شیوران، شیل اور ایکسن موبل جیسی بڑی تیل کمپنیاں اس صورتحال سے اربوں ڈالر کا غیر متوقع منافع کمانے کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : نیتن یاہو کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان
ماحولیاتی گروپ نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان کمپنیوں کے منافع پر اضافی ٹیکس عائد کریں اور اس رقم کو مہنگائی کے مارے عوام کی امداد کے لیے استعمال کریں۔
رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ 111 ارب ڈالر کا یہ تخمینہ صرف تیل اور گیس کی براہ راست قیمتوں پر مبنی ہے، جبکہ کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے جیسے دیگر اثرات کو شامل کیا جائے تو یہ نقصان کہیں زیادہ بڑا ثابت ہوگا۔
ایشیا میں اس حوالے سے ردعمل آنا شروع ہو گیا ہے، فلپائن میں تیل کمپنیوں کے منافع پر ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے جبکہ بھارت نے تیل کی برآمدات پر دوبارہ ٹیکس نافذ کر دیا ہے۔ ادھر انڈونیشیا نے توانائی میں خود کفالت کے لیے شمسی توانائی کے بڑے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











