جمعہ، 10-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

ایران کیخلاف ٹرمپ کی دھمکیاں، واشنگٹن میں شدید سیاسی ردعمل، بیان پاگل پن قرار

06 اپریل, 2026 09:17

امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف انتہائی سخت اور نازیبا زبان پر مبنی دھمکیوں کے بعد خود امریکہ کے اندر سیاسی حلقوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور کئی رہنماؤں نے ان کا عمل پاگل پن قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کو زبردستی کھولنے کے لیے دی گئی حالیہ دھمکیوں نے واشنگٹن کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ آنے والا منگل ایران کے لیے بجلی گھروں اور پلوں کی تباہی کا دن ہوگا اور انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایرانیوں کے لیے جہنم جیسی صورتحال پیدا کر دی جائے گی۔

ان بیانات پر سابق امریکی نمائندہ مارجوری ٹیلر گرین نے اپنے ہی سابق اتحادی صدر ٹرمپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں ذہنی طور پر مفلوج قرار دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا نہیں بلکہ سراسر برائی ہے اور اس جنگ کی قیمت امریکی عوام کو چکانی پڑ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا کامیاب ریسکیو مشن کا دعویٰ جھوٹا ثابت، ایران نے تباہ شدہ امریکی طیارے کی تصاویر جاری کر دیں

سینیٹ میں اقلیتی لیڈر چک شومر نے ٹرمپ کو بے لگام پاگل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر کی یہ گفتگو ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے اور ان کا یہ رویہ اتحادیوں کو دور کر رہا ہے۔

سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی ان ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے انہیں خطرناک قرار دیا اور کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدام کرے۔

بعض قانون سازوں نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ صدر ٹرمپ کی ذہنی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے پچیس ویں ترمیم کے تحت انہیں عہدے سے ہٹانے یا ان کے اختیارات محدود کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔

سینیٹر الیسا سلاٹکن نے متنبہ کیا کہ سویلین انفراسٹرکچر جیسے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے سنگین قانونی اور جانی نتائج برآمد ہوں گے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔