میزبانی کے بدلے احسان فراموشی، بلوچستان کے عوام نے افغان طالبان کے رویے کو مسترد کر دیا

بلوچستان کے شہریوں نے پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی چالیس سالہ مخلصانہ میزبانی کا حوالہ دیتے ہوئے افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردی کی سرپرستی پر شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں کے شہریوں نے ایک مشترکہ جذبے کے تحت افغان طالبان کی احسان فراموشی اور پاکستان دشمنی کے خلاف آواز بلند کر دی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے افغان بھائیوں کی میزبانی جس خلوص اور ہمدردی سے کی ہے، اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔
یہ بھی پڑھیں : بلوچستان میں پیٹرول کی زائد قیمت وصول کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن، ہیلپ لائن قائم
بلوچستان کے عوام کا مؤقف ہے کہ پاکستان نے مشکل ترین حالات میں افغان باشندوں کو نہ صرف سر چھپانے کی جگہ دی بلکہ انہیں یہاں تعلیم، صحت اور روزگار کی تمام سہولیات اپنے شہریوں کی طرح فراہم کیں۔
شہریوں نے جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام نے اپنے بچوں کے منہ سے نوالہ نکال کر افغان بچوں کی پرورش کی، لیکن آج افسوس کا مقام یہ ہے کہ افغان طالبان کی انتظامیہ اس خلوص کے بدلے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے۔
بلوچستان کے عوام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان خطے میں امن کے لیے اقدامات کرنے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب افغان طالبان کی جانب سے کی جانے والی یہ احسان فراموشی اور دہشت گردی کی سرپرستی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











