ایران جنگ نے امریکی برتری کے خاتمے کا آغاز کردیا، عالمی نظام میں بڑی تبدیلی کے آثار

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ تصادم نے اس دہائیوں پرانے مفروضے کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ واشنگٹن عالمی سیاست میں ہمیشہ غالب رہے گا، ماہرین کے مطابق یہ جنگ امریکی قیادت کے خاتمے کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔
1991 کے بعد سے امریکہ نے عالمی سلامتی کے مرکزی منتظم کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھی ہے، لیکن ایران کے ساتھ موجودہ تنازع اس پوزیشن کو یکسر تبدیل کرتا نظر آ رہا ہے۔
اب تک کا عمومی تاثر یہ رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ہی جنگ کے حالات کا تعین کریں گے اور اپنی شرائط منوائیں گے، مگر حالیہ واقعات نے اس سوچ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
ایران نے مسلسل دباؤ کے باوجود ہتھیار ڈالنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اپنایا ہے، جس سے امریکی افواج کو غلبے کے بجائے دفاعی پوزیشن پر آنا پڑا ہے۔
خطے کے دیگر ممالک اب امریکہ پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ اگرچہ روس اور چین اس جنگ میں براہِ راست شامل نہیں ہیں، لیکن امریکی ساکھ کو پہنچنے والا ہر نقصان ان بڑی طاقتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے ایران اور امریکہ کو جنگ بندی کا منصوبہ پیش کر دیا
معاشی محاذ پر پیٹرو ڈالر کا نظام، جو انیس سو ستر کی دہائی سے عالمی تیل کی تجارت کی بنیاد رہا ہے، اب شدید خطرے میں ہے۔ یہ نظام دو ستونوں پر کھڑا تھا۔
ایک توانائی کے خطوں میں امریکی سیکیورٹی کی ضمانت اور دوسرا عالمی تجارتی راستوں پر واشنگٹن کا مکمل کنٹرول تھا۔ آج یہ دونوں ستون لرز رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اب ایک محفوظ گزرگاہ کے بجائے تنازع کا مرکز بن چکی ہے۔
ایران کو اس راستے کو مستقل بند کرنے کی ضرورت نہیں، صرف غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا ہی عالمی معیشت کو جھٹکا دینے کے لیے کافی ہے۔
اسی دوران برکس ممالک ڈالر کے بغیر تجارتی نظام وضع کر رہے ہیں اور توانائی کے سودے اب مقامی کرنسیوں میں ہو رہے ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو عالمی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا تھا، اب اس کی حدود واضح ہو رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ جیسے ادارے بے بس نظر آتے ہیں اور دنیا اب مستقل بلاکوں کے بجائے چھوٹے اور عارضی اتحادوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔
امریکہ کے اندرونی حالات، سیاسی تقسیم اور بڑھتا ہوا مالیاتی دباؤ بھی واشنگٹن کو بیرونی محاذوں پر کمزور کر رہا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












