جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

امریکہ کی ڈکٹیشن کا خاتمہ، چین اور روس نے مل کر دنیا کا نیا سائنسی نظام قائم کر دیا

22 مئی, 2026 12:23

چین اور روس نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچاتے ہوئے 40 اہم معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں، جسے عالمی سائنسی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

حالیہ بیجنگ سربراہی اجلاس میں چین اور روس کے درمیان ہونے والے ان معاہدوں میں جدت، مصنوعی ذہانت، توانائی، خلائی تحقیق، سائنس، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

مبصرین کے مطابق یہ اتحاد صرف دو ممالک کے درمیان تعاون نہیں بلکہ مغربی اثر و رسوخ سے ہٹ کر ایک نئے عالمی سائنسی ماڈل کی بنیاد بن سکتا ہے، جہاں تحقیق، ٹیکنالوجی اور اختراعات کو مشترکہ ترقی کے تصور کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔

روس اور چین پہلے ہی دنیا کے بڑے سائنسی اور تحقیقی مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔ چین نے گزشتہ چند برسوں میں بائیو میڈیسن، بائیو ٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ اور خلائی تحقیق کے میدان میں حیران کن پیش رفت کی ہے، جبکہ روس اپنی دفاعی سائنس، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی اور بنیادی سائنسی تحقیق کی مضبوط روایت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کا اشتراک اب عالمی سائنسی منظرنامے میں ایک نئی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : برازیل، چین اور امریکہ کے درمیان بڑا عسکری و معاشی میدان جنگ بن گیا

چین کا جدید کوانٹم کمپیوٹر “جیوژانگ 4.0” اس پیش رفت کی ایک نمایاں مثال سمجھا جا رہا ہے، جسے ماہرین کمپیوٹنگ کے مستقبل میں ایک بڑی چھلانگ قرار دیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واضح اشارہ ہے کہ جدید کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں چین تیزی سے عالمی قیادت کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ روس کے ساتھ اشتراک اس رفتار کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

مغربی پابندیوں نے بھی اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد پابندیوں کا مقصد اگرچہ چین اور روس کو محدود کرنا تھا، لیکن ماہرین کے مطابق ان اقدامات نے دونوں ممالک کو زیادہ خود انحصار اور مربوط تکنیکی اتحاد بنانے پر مجبور کر دیا۔

نتیجتاً اب ماسکو اور بیجنگ ایک ایسا مشترکہ سائنسی ماڈل تشکیل دے رہے ہیں، جو مغربی نظام سے الگ اپنی بنیادیں مضبوط کر رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان بغیر ویزا پالیسی نے بھی سائنسی تعاون میں تیزی پیدا کی ہے۔ اس سہولت کے باعث روسی سائنسدان بڑی تعداد میں چین جا رہے ہیں، جہاں مشترکہ تحقیقی منصوبوں، لیبارٹری تعاون اور تعلیمی روابط میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنسی طاقت اب الگ تھلگ کام کرنے سے نہیں بلکہ اجتماعی تعاون، مشترکہ تحقیق اور وسائل کے تبادلے سے پیدا ہوتی ہے، اور یہی ماڈل چین اور روس اپناتے دکھائی دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ سربراہی اجلاس مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

40 نئے معاہدے، سائنسدانوں کے آزادانہ تبادلے، کوانٹم کمپیوٹنگ اور بائیوٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی اس بات کا اشارہ ہیں کہ چین اور روس ایک ایسا متبادل سائنسی نظام تشکیل دے رہے ہیں، جو امریکی اثر و رسوخ اور مغربی پابندیوں سے آزاد ہو کر عالمی سائنسی طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔