حزب اللہ کو توڑنا ناممکن ہے اور وہ آج بھی پوری طاقت سے کھڑی ہے، اسرائیلی کمانڈ کا اعتراف

لبنان کی جنگ نے اسرائیل کی فتح کے تمام جھوٹے دعوے تباہ کر دیے ہیں، اسرائیلی ناردرن کمانڈ کے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ اپنی کمانڈ برقرار رکھتے ہوئے روزانہ دو سو راکٹ داغنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
جنوبی لبنان کے محاذ پر جاری 2026 کی ہولناک جنگ نے اسرائیلی فوج کے فتح کے تمام تر کاغذی دعوؤں اور بیانیے کو مکمل طور پر خاک میں ملا دیا ہے۔
سال 2024 کے آخر میں شروع کیے جانے والے اسرائیلی فوجی آپریشن ایروز آف دی نارتھ کے باوجود، اسرائیلی جرنیل اور کمانڈرز رواں سال کے آغاز پر اس غلط فہمی کے ساتھ میدانِ جنگ میں داخل ہوئے تھے کہ حزب اللہ اب ایک معمولی اور آسان ہدف ہے، لیکن لبنانی سرحد میں داخل ہوتے ہی وہ ایک انتہائی ہولناک اور کبھی نہ ختم ہونے والے ڈراؤنے خواب میں پھنس چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی ناردرن کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل رفیع میلو نے اسرائیلی کابینہ کی شدید ترین تنقید کا سامنا کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ہماری فوج حزب اللہ کی جنگی صلاحیتوں کو دیکھ کر مکمل طور پر ششدر اور حیران رہ گئی ہے۔
اسرائیل کی کابینہ کے اجلاس سے لیک ہونے والی ایک انتہائی خفیہ آڈیو ریکارڈنگ میں میجر جنرل رفیع میلو کو صاف کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ جس انداز میں ہم نے آپریشن ایروز آف دی نارتھ کو ختم کیا تھا، اس میں اور اس زمینی حقیقت میں ایک بہت بڑا خلا اور فرق موجود ہے کہ حزب اللہ آج بھی اپنے پیروں پر پوری مضبوطی سے کھڑی ہے اور ہمارے خلاف کامیابی سے آپریشنز کر رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے بھی اس سنگین معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے خود یہ نازک مسئلہ ناردرن کمانڈ کے سربراہ کے سامنے براہِ راست اٹھایا ہے۔
اس شدید ترین لڑائی اور فضائی حملوں کے باوجود حزب اللہ نے میدانِ جنگ کے اندر اپنا پورا کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر انتہائی فعال رکھا ہوا ہے، جہاں ہر جنگی زون کو ایک سیکٹر کمانڈر سنبھال رہا ہے، جو حقیقی وقت میں فائرنگ اور راکٹ حملوں کو مربوط کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کا عرب کے معاشی نظام پر کنٹرول، عراق، لبنان اور لیبیا کے مرکزی بینکوں تک رسائی حاصل
حتیٰ کہ سال 2024 میں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والے لبنانی دیہاتوں کے اندر بھی حزب اللہ کی اس مزاحمتی تحریک نے خود کو دوبارہ منظم کیا، نئے ٹھکانے بنائے اور ہتھیاروں کی سپلائی لائن کو بحال کر لیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا بھی اب اس عبرتناک عسکری ناکامی کا کھلے عام اعتراف کر رہا ہے، جہاں مشہور اسرائیلی اخبار معاریو نے صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ اسرائیل اس بڑی جنگ کے لیے سرے سے تیار ہی نہیں تھا کیونکہ ہماری فوج شدید انٹیلی جنس نقصانات، لڑاکا طیاروں کی شدید قلت اور پچھلے تیس مہینوں سے بیک وقت کئی محاذوں پر لڑی جانے والی جنگ کی وجہ سے شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔
اسرائیلی فوج کی تازہ ترین رپورٹس اور اسیسمنٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ حزب اللہ اگلے پانچ مہینوں تک روزانہ تقریباً دو سو راکٹ مسلسل داغنے کی مکمل عسکری صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ اس کے پاس اب بھی کم و بیش 10 ہزار راکٹ اور سینکڑوں فعال راکٹ لانچرز موجود ہیں۔
حزب اللہ کے الماس نامی اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل، جن کی رینج دس کلومیٹر تک ہے، لبنانی سرحد کے اندر موجود تمام اسرائیلی فوجی پوزیشنز کو مسلسل اور براہِ راست شدید خطرے میں رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کے اندر لبنانی علاقے کے اندر ایک نیا بفر زون یعنی یلو لائن‘قائم کرنے کی بحث نے فوج کی ناکامی کو مزید واضح کر دیا ہے، کیونکہ خود سابق اسرائیلی کمانڈروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بفر زون بھی لبنانی گہرائی سے داغے جانے والے راکٹوں کو نہیں روک پائے گا اور اسرائیل ماضی کی طرح دوبارہ اسی سیکیورٹی بیلٹ کی ناکامی کو دہرانے کا بڑا خطرہ مول لے رہا ہے۔
دنیا بھر میں حزب اللہ کے کمزور ہونے کا پروپیگنڈا کیا گیا تھا، مگر اب خود اسرائیلی جرنیل، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور میڈیا سب مل کر یہ مان رہے ہیں کہ یہ مزاحمت آج بھی پوری طاقت سے کھڑی ہے، حکم دے رہی ہے اور بہادری سے لڑ رہی ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











