اسرائیل کا عرب کے معاشی نظام پر کنٹرول، عراق، لبنان اور لیبیا کے مرکزی بینکوں تک رسائی حاصل

امریکی مالیاتی جنگ کے ماہرین اور اسرائیلی سیکیورٹی اداروں سے جڑی ایک نجی فرم نے عراق، لبنان اور لیبیا کے مرکزی بینکوں کے خفیہ مالیاتی ریکارڈ تک رسائی حاصل کر لی ہے۔
عرب دنیا کے خود مختار مالیاتی نظام کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ کس طرح واشنگٹن اور تل ابیب مل کر عرب ممالک کے مرکزی بینکوں کو اپنے اشاروں پر چلا رہے ہیں۔
معروف عالمی جریدے دی نیو عرب کی ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کے ٹو انٹیگریٹی نامی ایک نجی فرم، جس کے تعلقات امریکی مالیاتی جنگ کے پرانے ماہرین سے ہیں، نے عراق، لبنان اور لیبیا کے مرکزی بینکوں کے اندر تک گہری رسائی حاصل کر لی ہے۔
یہ نجی کمپنی انہی لوگوں کے ذریعے چلائی جا رہی ہے، جنہوں نے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ کا مالیاتی دہشت گردی کا سراغ لگانے والا نظام تیار کیا تھا اور بعد میں ایران کی معیشت کا گلا گھونٹنے کی عالمی مہم کی قیادت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ کا اسرائیل سے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم فوری روکنے کا مطالبہ
اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس کمپنی کے روابط براہِ راست اسرائیل کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ڈھانچے سے ہیں، کیونکہ یہ بلیو وائینٹ نامی سائبر سیکیورٹی فرم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جس کے تار اسرائیلی فوج کے خفیہ یونٹ 8200 اور بدنام زمانہ داخلی انٹیلی جنس ایجنسی شن بیت سے ملتے ہیں۔
اس کمپنی کے ایگزیکٹو منیجنگ ڈائریکٹر کوبی بامبیلیا نامی شخص ہیں، جو ماضی میں اسرائیل کے سرکاری وکیل اور اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ میجر رہ چکے ہیں۔
یہ کمپنی منی لانڈرنگ یعنی غیر قانونی پیسے کی منتقلی کو روکنے اور قوانین کی تعمیل کی آڑ میں ان عرب ممالک کے ساتھ خفیہ نجی معاہدے کرتی ہے اور پھر ان معاہدوں کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ان ممالک کے مرکزی بینکوں کے تمام مالیاتی لین دین کی سخت نگرانی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عراق کے مرکزی بینک نے 2023 میں کے ٹو انٹیگریٹی کے ساتھ دو انتہائی اہم معاہدوں پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس امریکی و اسرائیلی پس منظر رکھنے والی کمپنی کو عراقی بینک کے تمام تجارتی اور مالیاتی ریکارڈ تک بلا روک ٹوک رسائی مل گئی ہے۔
دوسری جانب لبنان کے اندر اس کمپنی کی مداخلت نے ایک خاموش معاشی قبضے کے خوف کو جنم دے دیا ہے، جہاں لبنان کے مرکزی بینک کے ساتھ 12 ملین ڈالر کا ایک متنازع معاہدہ کیا گیا ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاشی اصلاحات کے لیے نہیں بلکہ لبنان کی جاسوسی اور مالیاتی معلومات اکٹھی کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











