جمعہ، 10-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

پیٹرو ڈالر کا زوال، چین کا کراس بارڈر انٹر بینک پیمنٹ سسٹم اور عالمی معیشت کی نئی سمت

07 اپریل, 2026 11:59

امریکی ڈالر کی دہائیوں پرانی بالادستی کو آبنائے ہرمز جیسے اہم ترین تجارتی مقام پر براہِ راست چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ایران اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے مالیاتی اشتراک نے ایک ایسا متوازی نظام تشکیل دے دیا ہے، جو نہ صرف امریکی پابندیوں کو بے اثر کر رہا ہے بلکہ عالمی تجارت کے لیے ایک متبادل شاہراہ بھی فراہم کر رہا ہے۔ وہ پیچیدہ مالیاتی ڈھانچے جو سوِفٹ جیسے روایتی نظاموں سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں، جسے پیٹرو ڈالر کا زوال بھی کہا جارہا ہے۔

آبنائے ہرمز پر قائم ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا ٹول بوتھ اب امریکی ڈالر قبول نہیں کرتا۔ عالمی تجارت کی اس سب سے اہم گزرگاہ پر اب چینی یوآن کا سکہ چلتا ہے، جس کی ادائیگی چین کے سرحد پار انٹر بینک ادائیگی کے نظام کے ذریعے کی جاتی ہے یا پھر کرپٹو کرنسی کا سہارا لیا جاتا ہے۔

ہر بحری سفر پر یہ ٹول بیس لاکھ ڈالر تک پہنچ جاتا ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ادائیگی روایتی مالیاتی نظام ‘سوِفٹ’ کو چھوئے بغیر مکمل ہو جاتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ رقم نیویارک کے کسی بینک سے نہیں گزرتی اور اس ڈالر کلیئرنگ سسٹم میں اس کا کوئی ریکارڈ درج نہیں ہوتا، جسے امریکہ نے عالمی مالیات پر نظر رکھنے اور اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کے لیے بنایا تھا۔

جس جنگ کا آغاز پیٹرو ڈالر کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا، وہ اب ایک ایسے مقام پر لڑی جا رہی ہے، جہاں پیٹرو ڈالر کی جگہ پہلے ہی متبادل نظام نے لے لی ہے۔

مارچ 2026 میں چین کے سرحد پار ادائیگی کے نظام نے روزانہ 130 بلین ڈالر سے زیادہ کے لین دین کی کارروائی مکمل کی، جس میں بڑا حصہ ایران کی جنگ کی وجہ سے ہونے والے بہاؤ کا تھا۔

یہ نظام 180 ممالک کے سولہ سو شرکاء کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اگرچہ یہ اب بھی اپنے پیغامات کے لیے 80 فیصد تک سوِفٹ پر انحصار کرتا ہے، لیکن وہ باقی 20 فیصد حصہ جو سوِفٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتا ہے، وہی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

یہی وہ راستہ ہے، جس کے ذریعے ایرانی تیل کی ادائیگیاں، ہرمز کے ٹول ٹیکس اور خفیہ بحری بیڑوں کے معاملات چینی ریفائنریوں سے پاسدارانِ انقلاب کے ایجنٹوں تک پہنچتے ہیں اور امریکہ کو ان لین دین کی بھنک تک نہیں پڑتی۔

اس نظام کے ساتھ ساتھ ‘ایم برج’ کا پلیٹ فارم بھی کام کر رہا ہے، جو عالمی تصفیہ کے بینک کا ایک کثیر ملکی ڈیجیٹل کرنسی منصوبہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے زیرِ زمین میزائل شہر، ریل نظام اور خودکار لانچرز، جسے جدید بم بھی تباہ نہ کرسکے

یہ نظام ایک مخصوص تقسیم شدہ کھاتے پر کام کرتا ہے اور مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیوں کا تصفیہ سیکنڈوں میں کر دیتا ہے۔ اب تک اس کے ذریعے تقریباً 55 بلین ڈالر کا لین دین ہو چکا ہے، جس کا 95 فیصد حصہ ڈیجیٹل یوآن میں تھا۔

اس پلیٹ فارم میں چین، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے مرکزی بینک شامل ہیں۔ یہ ڈھانچہ ایک ایسی دنیا کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جہاں ڈالر کا راج نہ ہو، اور آج اسے ایک ایسی حقیقت میں آزمایا جا رہا ہے، جہاں ڈالر اگرچہ غالب ہے، لیکن دنیا کی اہم ترین گزرگاہ پر ٹول اسی کرنسی میں لیا جا رہا ہے، جس کے لیے یہ نظام بنایا گیا تھا۔

یہ نیا مالیاتی ڈھانچہ مختلف تہوں پر مشتمل ہے۔ چینی نظام روایتی یوآن کے بینک تبادلوں کو سنبھالتا ہے، جہاں ریفائنری سے درمیانی راستوں کے ذریعے پاسدارانِ انقلاب کے کھاتوں تک رقم شنگھائی میں کلیئر ہوتی ہے۔

دوسری طرف ‘ایم برج’ ڈیجیٹل مرحلے کو دیکھتا ہے، جہاں مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسی براہِ راست خود مختار مراکز کے درمیان منتقل ہوتی ہے۔

اس میں نہ کسی درمیانی بینک کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی سوِفٹ کی مداخلت ہوتی ہے۔ یہ دونوں مل کر ایک ایسا متوازی ادائیگی کا نظام بناتے ہیں، جسے ڈالر کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف شرکاء کی ضرورت ہے اور جاری جنگ نے یہ شرکاء فراہم کر دیے ہیں۔

چین اب ایران کی برآمدات کا 80 سے 90 فیصد حصہ خریدتا ہے، ادائیگی یوآن میں کرتا ہے اور تصفیہ اس ڈھانچے کے ذریعے کرتا ہے، جسے امریکہ نہ تو منجمد کر سکتا ہے، نہ اس کی نگرانی کر سکتا ہے اور نہ ہی عالمی تصفیہ کے بینک پر پابندی لگائے بغیر اسے روک سکتا ہے۔

معروف مالیاتی ادارے ڈوئچے بینک نے ایران کی جنگ کو پیٹرو یوآن کے لیے ایک مہمیز قرار دیا ہے۔ جنگ سے پہلے یوآن میں تیل کی تجارت محض ایک آزمائشی پروگرام تھا، لیکن جنگ نے اسے ایک آپریشنل ضرورت میں بدل دیا۔

جب سوِفٹ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تو دنیا سوِفٹ کے متبادل راستے تلاش کر لیتی ہے۔ جب ڈالر کو دباؤ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو تصفیہ یوآن میں ہونے لگتا ہے۔

جب آبنائے ہرمز کو ڈالر میں تجارت کرنے والے جہازوں کے لیے بند کیا جاتا ہے، تو اسے یوآن میں تجارت کرنے والوں کے لیے کھول دیا جاتا ہے اور وہاں سے حاصل ہونے والا ٹول ٹیکس اسی جنگ کی مالی معاونت کرتا ہے، جسے ڈالر کے زور پر جیتا جانا تھا۔

یہ درست ہے کہ اب بھی عالمی ذخائر کا 69 فیصد حصہ ڈالر پر مشتمل ہے اور 80 فیصد سے زائد عالمی تجارت ڈالر ہی میں ہوتی ہے۔

مجموعی پیمانے پر ڈالر اب بھی حاوی ہے، لیکن یہ مجموعی اعداد و شمار اس تبدیلی کو نہیں دیکھ پا رہے، جو سرحدوں پر ہو رہی ہے۔

اصل تبدیلی آبنائے ہرمز کے کنارے پر ہے، جہاں روزانہ کا 130 بلین ڈالر کا چینی لین دین، 20 لاکھ ڈالر کے یوآن ٹول ٹیکس، اور ‘ایم برج’ کا فوری ڈیجیٹل تصفیہ آپس میں ملتے ہیں۔

متبادل نظام کسی پالیسی پیپر میں نہیں بلکہ عملی طور پر ہر تیل کے بیرل اور ہر ٹول ٹیکس کی ادائیگی کے ساتھ تعمیر ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا انفراسٹرکچر ہے، جسے امریکہ نے نہیں بنایا اور نہ ہی وہ اسے بند کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔

بائی پاس کا یہ فن تعمیر اب مکمل طور پر فعال ہے اور وہ جنگ جسے اسے روکنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، اب اسی کی آبیاری کر رہی ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔