جمعہ، 10-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

امریکی جمہوریت کا زوال، کیا 2026 کا امریکہ ہٹلر کے نازی جرمنی کی راہ پر چل پڑا ہے؟

08 اپریل, 2026 12:36

سال 2026 کے دوران امریکہ میں جمہوری اقدار کی تیزی سے تنزلی دیکھی جا رہی ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات اور بیانات ہٹلر کے نازی جرمنی کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مخالفین کی تذلیل، میڈیا پر حملے، اور انتخابی قوانین میں تبدیلی کے ذریعے طاقت کا مرکز وائٹ ہاؤس کو بنانا ایک ایسی آمریت کی طرف اشارہ ہے، جو بظاہر جمہوریت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ اداروں پر قبضے اور فوج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں نے اس خدشے کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔

جمہوریت سے آمریت کی طرف منتقلی کا سفر اکثر مختصر ہوتا ہے، اور 2026 کا امریکہ نازی جرمنی کے ساتھ پریشان کن مماثلتیں ظاہر کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی جمہوریت اور نازی آمریت اب ایک ہی سکے کے دو رخ بن چکے ہیں۔ اس کا آغاز بیان بازی سے ہوتا ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سیاسی مخالفین کو کیڑے مکوڑے قرار دیتے ہیں اور تارکین وطن پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ امریکی خون کو زہر آلود کر رہے ہیں۔

یہ وہی زبان ہے، جو نازی دور میں مظلوم طبقوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ اسی طرح آزاد میڈیا کو مسلسل جھوٹا پروپیگنڈا قرار دینا نازیوں کی اصطلاح لوگن پریسے کی ہو بہو نقل ہے، جس کا مقصد عوام کا سچ سے اعتماد اٹھانا ہوتا ہے۔

صرف بیانات ہی نہیں بلکہ اداروں پر بھی منظم طریقے سے حملے کئے جا رہے ہیں۔ عدالتی نظام کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنا نازی دور کے قانونی جنگ کے حربوں سے مماثلت رکھتا ہے۔

فیڈرل ایجنسیوں میں پیشہ ور افراد کے بجائے صرف ذاتی وفاداروں کی تعیناتی کی جا رہی ہے، جسے جرمن زبان میں گلائیک شیلٹونگ کہا جاتا ہے، یعنی تمام اداروں کو ایک ہی نظریے کے تابع کر دینا۔

یہ بھی پڑھیں : صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف مکمل اور حتمی فتح حاصل کرنے کا دعویٰ

اس کے ساتھ ساتھ نیم فوجی دستوں اور ملیشیاؤں کو تیار رہنے کا کہنا ماضی کی نازی تنظیموں ایس اے اور ایس ایس کی یاد دلاتا ہے، جن کا کام مخالفین کو ڈرانا دھمکانا تھا۔

سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال انتخابی عمل کی ہے۔ جس طرح ہٹلر نے جرمن پارلیمنٹ کی عمارت میں آگ لگنے کے واقعے کو اقتدار پر قبضے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا تھا، اسی طرح ٹرمپ کا سیو ایکٹ انتخابات میں ہیرا پھیری کا راستہ ہموار کر رہا ہے۔

اس قانون کے تحت وفاقی حکومت کو ریاستی اختیارات پر فوقیت دے دی گئی ہے، جس سے لاکھوں ووٹرز، خصوصاً نئے شہریوں اور اقلیتوں کو انتخابی فہرستوں سے نکالنے کا جواز مل گیا ہے۔

وفاقی مداخلت کی وجہ سے غیر جانبدار انتخابی حکام استعفیٰ دے رہے ہیں، جبکہ صدر کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ نتائج آنے سے پہلے ہی انتخابات کو کرپٹ قرار دے کر چیلنج کر دیں۔

مخالفت کو کچلنے کے لیے فوج میں بھی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اب تک 20 سے زائد جرنیلوں اور ایڈمرلوں کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے اور صرف وہی افسران باقی بچے ہیں، جو صدر کے ہر حکم پر آمنا و صدنا کہنے کے لیے تیار ہیں۔

ایران کے ساتھ جنگ کو جواز بنا کر ان فوجی افسران کو نشانہ بنایا گیا، جو فوجی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ 2026 میں امریکہ جمہوری اصولوں کو پامال کرتے ہوئے کھلم کھلا آمریت کی طرف مارچ کر رہا ہے، اور وہ دن دور نہیں جب دنیا کے طاقتور ترین ملک میں جمہوریت صرف ایک یاد بن کر رہ جائے گی۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔