جمعہ، 17-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/29هـ (17-04-2026م)

طالبان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور اسلحہ فراہم کر رہے ہیں، سابق اعلیٰ افغان عہدیدار

14 اپریل, 2026 09:25

سابق اعلیٰ افغان عہدیدار نے دستاویزی شواہد کے ساتھ انکشاف کیا ہے کہ طالبان رجیم فتنہ الخوارج اور دیگر عالمی دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور جنگی ساز و سامان فراہم کر رہی ہے۔

افغانستان کی موجودہ طالبان انتظامیہ کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی ہمسایہ ممالک سمیت پورے خطے کے لیے ایک سنگین سکیورٹی چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے قومی سلامتی کے سابق مشیر احمد ضیاء سراج نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان رجیم کا فتنہ الخوارج اور دیگر ممنوعہ عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ انتہائی قریبی اور منظم تعاون جاری ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس گٹھ جوڑ کے تحت نہ صرف ان دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کیے جا رہے ہیں بلکہ انہیں جدید اسلحہ اور مالی معاونت بھی دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت میں نمایاں تیزی، بغلان میں راکٹ حملہ

احمد ضیاء سراج نے مزید بتایا کہ اس خطرناک تعاون میں خودکش حملہ آوروں کا تبادلہ بھی شامل ہے، جو کہ عالمی امن کے لیے ایک ہولناک صورتحال ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طالبان دورِ حکومت میں عالمی دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین اور وہاں دستیاب سہولیات کو اپنے مذموم مقاصد اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے آزادانہ طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

سابق عہدیدار کے مطابق افغان شہری خود اس گھناؤنے تعلق کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں، کیونکہ اس سے ملک کے اندر عدم استحکام اور عالمی تنہائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی امور کے ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی یہ سرپرستی خود افغان عوام کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغان طالبان اپنے ناجائز تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے بیرونی اشاروں پر دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاری کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

اگر ان سرگرمیوں کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو خطے میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے جس کی ذمہ داری براہِ راست کابل کی موجودہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔