بدھ، 15-اپریل،2026
بدھ 1447/10/27هـ (15-04-2026م)

حکومت نے سرکاری ملازم پر غیر ملکی شہری سے شادی پر پابندی عائد کردی

15 اپریل, 2026 08:15

خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے سول سرونٹ رولز میں ترمیم کر دی ہے۔

 نئے قواعد کے تحت سرکاری ملازمین کے غیر ملکی شہریوں سے شادی کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام ملازمین کو ان نئے قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سرکاری معاملات میں شفافیت اور سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ تاہم نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی شہری وفاقی حکومت سے منظور شدہ ہو تو اس صورت میں مخصوص اجازت کے تحت شادی ممکن ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک اہم بل بھی پیش کیا گیا ہے، جس کا تعلق کالاش کمیونٹی کی شادیوں سے ہے۔ “کالاش میرج بل 2026” کے نام سے پیش کیے گئے اس مسودے میں شادی کے نظام کو باقاعدہ قانون کے تحت لانے کی تجویز دی گئی ہے۔

بل کے مطابق کالاش کمیونٹی میں شادی کے لیے لڑکا اور لڑکی دونوں کی رضا مندی لازمی ہوگی اور کم از کم عمر 18 سال مقرر کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ذہنی صحت سے متعلق شرائط بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ شادی کا عمل بہتر انداز میں انجام پائے۔

اس مجوزہ قانون میں کزن میرج یعنی قریبی رشتہ داروں میں شادی پر پابندی لگانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جو کہ اس کمیونٹی کے روایتی طریقہ کار میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔

مزید برآں، بل میں تمام شادیوں کی باقاعدہ رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے لیے مقامی سطح پر رجسٹرار مقرر کیے جائیں گے جو شادی، طلاق اور علیحدگی کے ریکارڈ کو محفوظ رکھیں گے۔

بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طلاق اور دیگر خاندانی معاملات کالاش کمیونٹی کی روایات کے مطابق طے کیے جائیں گے، جبکہ شوہر کی وفات کے بعد جائیداد کے حقوق بھی انہی روایات کے تحت ہوں گے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔