آبنائے ہرمز میں امریکی دعوے ناکام، چین کا بحری جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے گزرنے میں کامیاب

امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے، جہاں ایک پابندی زدہ چینی بحری جہاز نے کسی رکاوٹ کے بغیر اس تزویراتی راستے کو عبور کر لیا ہے۔ چین نے نہ صرف امریکی دھمکیوں کو ناکام بنایا ہے بلکہ ملاکا کے راستے پر انحصار ختم کرنے کے لیے متبادل زمینی اور سمندری تجارتی راستوں کا ایک ایسا جال بچھا دیا ہے، جس نے امریکی بحری برتری کو بے اثر کر کے رکھ دیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بلند و بانگ دعوے اس وقت ریت کی دیوار ثابت ہوئے جب امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا شکار چینی تیل بردار بحری جہاز رچ اسٹاری بغیر کسی رکاوٹ کے اس حساس ترین آبی گزرگاہ سے گزر گیا۔
اس واقعے نے عالمی سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ امریکہ اب سمندری راستوں پر اس طرح کا کنٹرول نہیں رکھتا جیسا کہ وہ دعویٰ کرتا رہا ہے۔
چین نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران انتہائی دانشمندی سے ان تمام تزویراتی کمزوریوں کو دور کر لیا ہے، جنہیں امریکہ اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔
ماضی میں چین کے لیے سب سے بڑا خطرہ ملاکا کی گزرگاہ تھی، جو ملائیشیا اور انڈونیشیا کے درمیان واقع ہے اور جہاں امریکی بحریہ کا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔
تاہم چین نے اب میانمار کے ذریعے پائپ لائن بچھا کر اس پورے راستے کو نظر انداز کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کا چین کو ایرانی تیل کی ترسیل روکنے کا فیصلہ
اس کے ساتھ ساتھ روس اور چین کے درمیان سائبیریا کی گیس پائپ لائن اور خام تیل کی ترسیل کے زمینی منصوبوں نے توانائی کے تحفظ کو یقینی بنا دیا ہے۔
وسطی ایشیائی ریاستوں ترکمانستان، ازبکستان اور قازقستان سے آنے والی گیس پائپ لائنیں امریکی طیارہ بردار جہازوں کی پہنچ سے مکمل طور پر باہر ہیں اور سالانہ اربوں مکعب میٹر گیس چین پہنچا رہی ہیں۔
اس اسٹریٹجک دفاع میں پاکستان کا کلیدی کردار بھی سامنے آیا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ اور پاک چین اقتصادی راہداری نے بیجنگ کو خلیج فارس کے بالکل دہانے پر ایک ایسا زمینی راستہ فراہم کر دیا ہےم جو امریکی اتحادیوں کے زیر اثر علاقوں سے بچ کر براہ راست بحیرہ عرب تک رسائی دیتا ہے۔
اس کے علاوہ چین نے اندرون ملک شمسی، بادی اور جوہری توانائی کے منصوبوں پر اتنی بڑی سرمایہ کاری کی ہے کہ وہ اب دنیا میں قابل تجدید توانائی کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔
انڈونیشیا جیسے ممالک نے بھی امریکی کٹھ پتلی بننے سے انکار کر دیا ہے اور وہ چین کے ساتھ پرامن تجارت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ چین کی سپلائی لائن کو روکنے کی کوئی بھی امریکی کوشش عالمی منڈیوں کو تباہ کر دے گی، جس کا سب سے زیادہ نقصان جاپان اور جنوبی کوریا جیسے امریکی اتحادیوں کو ہوگا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











