مودی حکومت عالمی ماحولیاتی کانفرنس کی میزبانی سے دستبردار، بھارتی ساکھ کو شدید دھچکا

مودی حکومت نے عالمی ماحولیاتی کانفرنس 2028 کی میزبانی سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے، جس کے باعث بھارت کی عالمی ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے اور اس کی انتظامی اہلیت پر سوال اٹھ گئے ہیں۔
بھارت کی مودی سرکار کو عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی اور انتظامی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز اور بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق بھارت نے اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس 2028 کی میزبانی کی اپنی پیشکش واپس لے لی ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 2023 میں دبئی میں منعقدہ کانفرنس کے دوران بڑے فخر سے اس میزبانی کا دعویٰ کیا تھا، تاہم اب اس سے یوٹرن لینا بھارت کی عالمی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے نے مودی حکومت کی انتظامی مشینری اور معاشی استحکام کے دعوؤں کا بھٹہ بٹھا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خطے میں بھارت کی اسٹریٹجک اہمیت ختم، پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بن گیا، ایشیا ٹائمز
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ میزبانی سے دستبرداری اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
بھارت پہلے ہی 2035 کے لیے اپنے قومی ماحولیاتی اہداف جمع کرانے کی دو ڈیڈلائنز نظر انداز کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق مودی حکومت اس بحث سے بچنا چاہتی ہے کہ ان کے اقدامات اور دعوؤں میں کتنا بڑا تضاد ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارت کا دارالحکومت دہلی اس وقت دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست ہے اور بھارت کی ماحولیاتی پالیسیوں کی وجہ سے پورا خطہ متاثر ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر مودی کے گلوبل ساؤتھ کا لیڈر بننے کے دعوے بھی اب سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











