اسرائیلی وزیرِ اعظم کے حکم کے بعد لبنان میں بمباری، چھ افراد شہید

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے فوج کو لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بھرپور حملے کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد جنوبی لبنان میں بمباری کے نتیجے میں چھ افراد شہید ہوگئے۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی فوج کو ہدایت جاری کی کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے اہداف کو پوری قوت کے ساتھ نشانہ بنائیں۔ یہ حکم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صرف دو دن قبل ہی جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع کی گئی تھی۔
نیتن یاہو کے اس حکم کے فوراً بعد اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان میں کئی مقامات پر وحشیانہ حملے کیے جن میں کم از کم چھ افراد شہید ہو گئے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق نبطیہ کے علاقے یحمر الشقیف میں ایک ٹرک اور موٹر سائیکل پر ہونے والے حملے میں چار افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ بنت جبیل کے علاقے صفد البطیخ میں ہونے والے ایک اور حملے میں دو افراد شہید اور سترہ زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیز فائر کا کریڈٹ لینے کی کوشش
دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حزب اللہ کے ان ارکان کو نشانہ بنایا، جو اسلحے سے لدی گاڑی میں سوار تھے۔
اسرائیل نے لیتانی کے علاقے میں بھی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے نام نہاد بفر زون بنا رکھا ہے۔ ان حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوجی گاڑی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ان بڑھتی ہوئی جھڑپوں نے اس جنگ بندی معاہدے کی قلعی کھول دی ہے جو واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔
اسی دوران لبنانی صحافی امل خلیل کی شہادت اور ان کے ساتھی فوٹوگرافر کے زخمی ہونے پر عالمی میڈیا تنظیموں نے شدید احتجاج کیا ہے۔
برطانیہ اور فن لینڈ سمیت میڈیا فریڈم کولیشن نے صحافیوں پر تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیل نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












