ٹرمپ کی اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیز فائر کا کریڈٹ لینے کی کوشش

امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کوششوں سے اسرائیل اور لبنان کے سربراہان مملکت کے درمیان تین دہائیوں کے طویل وقفے کے بعد پہلا براہ راست رابطہ ہونے جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں کے درمیان براہ راست بات چیت کا انتظام کر لیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور دونوں ممالک کو سانس لینے کی جگہ فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان آخری بار رابطہ تقریباً چونتیس سال قبل ہوا تھا اور اب یہ تاریخی رابطہ کل ہونے والا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تہران میں ایرانی صدر اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، خطے کی سلامتی پر تبادلہ خیال
ایران جنگ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کو ذاتی کامیابی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر یہ واضح ہے کہ تہران نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی شرائط میں لبنان میں سیز فائر بھی مانگا تھا، جس کے بغیر امریکی وفد سے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کیا تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے کی گئی ٹوئٹ میں بھی لبنان جنگ بندی کا ذکر تھا، ایران میں سیز فائر کے اعلان کے فوراً بعد اسرائیل نے لبنان پر خونریز حملے کیئے، جس کے نتیجے میں کئی سو افراد شہید ہوگئے۔
ایران کی جانب سے ثالث پاکستان کو پیغام پہنچایا گیا اور لبنان میں حملوں پر سخت ردعمل دیا گیا، جس کے بعد امریکی صدر نے اسرائیل سے اعلانیہ ناراضگی کا اظہار کیا اور اب اس سیز فائر کے معاہدے پر وہ یہ کریڈٹ ایران کو دینے کے بجائے اپنی جھولی میں ڈال رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









