پیر، 27-اپریل،2026
پیر 1447/11/10هـ (27-04-2026م)

پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے کا حکومتی اختیار بحال

27 اپریل, 2026 13:50

وفاقی آئینی عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم دفعات بحال کرتے ہوئے حکومت کو شہریوں کے نام کنٹرول لسٹ میں ڈالنے اور پاسپورٹ غیر فعال کرنے کا اختیار واپس دے دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم ترین فیصلے میں حکومت کو بڑا ریلیف فراہم کرتے ہوئے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی وہ تمام دفعات بحال کر دی ہیں، جنہیں پہلے لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی، جس کے نتیجے میں اب حکومت کے پاس یہ قانونی اختیار واپس آ گیا ہے کہ وہ کسی بھی شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر سکے اور ضرورت پڑنے پر ان کے پاسپورٹ غیر فعال بھی قرار دے سکے۔

عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے حکومتی اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لی ہے اور تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : تاجروں کے لیے الگ پاسپورٹ جاری کرنے کی تجویز لے کر آرہے ہیں، وفاقی وزیر داخلہ

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ فرحان علی نامی ایک شہری غیر قانونی طور پر ایران گیا تھا، جہاں سے اسے ڈی پورٹ کیا گیا، جس کے بعد اس کے غیر قانونی اقدامات کی بنیاد پر اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔

عدالت میں بحث کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا یہ ڈنکی لگا کر باہر جانے والوں کا کیس ہے؟ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا یہ شخص خود باہر جانا چاہتا تھا یا لوگوں سے پیسے لے کر انہیں غیر قانونی طور پر اٹلی بھیجنے کے کاروبار میں ملوث تھا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے سے اس حوالے سے مزید معلومات طلب کی گئی ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہائیکورٹ نے رول نمبر تین اور دس کو کالعدم قرار دیا تھا، جس سے حکومتی اختیارات ختم ہو گئے تھے۔

وفاقی آئینی عدالت نے ان رولز کو بحال کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔