صومالیہ کے قریب آئل ٹینکر پر قبضہ، پاکستانی مغوی کی کرب میں ڈوبی آڈیو وائرل
WebDesk
28 اپریل, 202612:21
شیئر
صومالیہ کے قریب بحری جہاز Honour 25 پر صومالی قزاقوں کے قبضے کے بعد 10 سے زائد پاکستانی عملہ یرغمال بن گیا ہے، جن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
انہی مغویوں میں شامل امین بن شمس کی ایک دردناک آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ اپنے والد سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔
آڈیو میں امین بن شمس نے کہا کہ ابو، ہم لوگوں کو بحری قزاقوں نے پکڑ لیا ہے، یہ میرا آخری وائس میسج ہے، کیا پتا اب میں آپ سے بات نہ کر پاؤں کیونکہ یہ ہمیں مارنے کے لیے لے کر جا رہے ہیں۔
امین بن شمس نے روتے ہوئے کہا کہ مجھ سے جو بھی غلطی ہوئی ہو مجھے معاف کر دیجیے گا، عائشہ اور بچوں کا خیال رکھیے گا، آپ دل مضبوط کر لیجیے گا، خدا حافظ۔
امین بن شمس کے والد نے کہا کہ ہمارا ایک ہی بچہ ہے اور روزگار کے لیے ہم نے اسے بھیجا تھا، وہ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے، پہلی بار گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ ہوگیا۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی کہ کسی طرح ہمارے بچے کو صحیح سلامت واپس لایا جائے۔
مغوی کی اہلیہ عائشہ نے کہا کہ میرے شوہر نے بتایا کہ ہوائی فائرنگ کرکے ہمیں ڈرایا جا رہا ہے اور ہمیں مارنے کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس بچے سے میں ابھی تک ملا نہیں، مجھے نہیں لگتا اب اس سے کبھی مل پاؤں گا۔
شپنگ ذرائع کے مطابق اونر 25 نامی جہاز پر بحری قزاقوں نے 21 اپریل کو حملہ کیا اور اسے قبضے میں لے لیا تھا۔
جہاز پر 11 پاکستانی کریو بھی موجود ہیں اور وزارت بحری امور کے ڈائریکٹوریٹ آف پورٹ کا پاکستانی عملے سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق جہاز پر عملہ بھیجنے والی ایجنسی بھی خاموش ہے۔
کریو کے خاندان نے بتایا کہ انڈونیشین کیپٹن کی رہائی کے لیے انڈونیشیا قزاقوں سے بات چیت کر رہا ہے۔
اہلِ خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔