ایران کا آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس کی وصولی ‘ریال’ میں کرنے کا منصوبہ

ایران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے گزرنے پر ٹول ٹیکس کی وصولی اپنی قومی کرنسی ‘ریال’ میں کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ایرانی معیشت کو پابندیوں کے اثرات سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ امریکی ڈالر کے عالمی غلبے کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک گیارہ نکاتی منصوبے کا انکشاف کیا ہے، جو ایرانی معیشت کے لیے ‘گیم چینجر’ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس منصوبے کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے جا رہا ہے، جس کی سب سے اہم شرط یہ ہوگی کہ یہ ادائیگی ایرانی کرنسی ‘ریال’ میں کی جائے گی۔
اس منصوبے میں اسرائیل سے وابستہ جہازوں کے گزرنے پر مکمل پابندی اور ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگانے والے ممالک سے معاوضے کی وصولی بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ہمیں بھی حصہ چاہیے! مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز پر امریکہ کا اصل ارادہ ظاہر کر دیا
اگر یہ ریال پر مبنی ٹول سسٹم نافذ ہو جاتا ہے تو اس سے ایران کو سالانہ دس سے پندرہ بلین ڈالر کی اضافی آمدنی متوقع ہے، جو اس کی تیل کی برآمدات سے ہونے والی آمدنی کا تقریباً پچیس سے پینتیس فیصد بنتی ہے۔
یہ نظام نہ صرف ریال کی قدر کو مستحکم کرے گا بلکہ عالمی سطح پر ایرانی کرنسی کی مانگ میں بھی اضافہ کرے گا۔ یہ بالکل ویسا ہی اقدام ہے، جیسا روس نے 2022 میں گیس کی ادائیگی روبل میں وصول کر کے کیا تھا، جس نے روسی معیشت کو پابندیوں کے باوجود گرنے سے بچایا۔
چین اور بھارت جیسے ممالک، جو ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں، اس نظام کا حصہ بن سکتے ہیں، جس سے امریکہ کی ‘میکسمم پریشر’ پالیسی بری طرح ناکام ہو جائے گی۔
یہ منصوبہ ایران کو ایک ایسی تزویراتی طاقت عطا کرے گا، جہاں وہ اپنے دوست ممالک کو ٹول ٹیکس میں رعایت دے کر سیاسی فوائد بھی حاصل کر سکے گا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










