ہمیں بھی حصہ چاہیے! مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز پر امریکہ کا اصل ارادہ ظاہر کر دیا

امریکی وزیرِ خارجہ نے ایران کی ناکہ بندی کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن تہران کو اکیلے آبنائے ہرمز کے فوائد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں ایران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی نظام میں موجود لوگ ہر فیصلے سے پہلے اس کے نفع اور نقصان کا حساب کتاب کرتے ہیں۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کی جانب سے کی جانے والی بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کی قیمت ان کے فوائد سے کہیں زیادہ ہو۔
انہوں نے موجودہ بحری ناکہ بندی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عام جہاز رانی کے خلاف نہیں بلکہ خاص طور پر ایرانی جہاز رانی کے خلاف ہے، کیونکہ امریکہ ایران کو ایک ایسے غیر قانونی اور بلا جواز نظام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتا، جس میں وہ اپنی مرضی کا ٹول وصول کر رہا ہو۔
یہ بھی پڑھیں : بحرین نے ایران کی حمایت کے الزام پر 69 افراد کی شہریت منسوخ کر دی
دوسری جانب سیاسی ناقدین نے مارکو روبیو کے اس بیان کو امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے کنٹرول میں اپنا حصہ مانگنے سے تعبیر کیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مارکو روبیو نے اس حقیقت کا اعتراف کر لیا ہے کہ امریکہ صرف ایران کو نہیں روک رہا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس اہم ترین بحری راستے کے منافع اور کنٹرول میں امریکہ کا بھی حصہ ہو۔
سابق صدر ٹرمپ کے دور کی جنگی پالیسیوں نے آبنائے ہرمز کو ایک ایسے ٹول بوتھ یا ٹیکس وصولی کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں اب ہر کوئی اپنا مفاد تلاش کر رہا ہے۔
مارکو روبیو کے اس بیان سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز پر ایران کی اجارہ داری کو ختم کر کے اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












