پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثہ جات کے شعبے کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثہ جات کے شعبے کی ریگولیشن اور مستقبل کی پالیسی سازی کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پیوارا) کے چیئرمین اور وزیر مملکت بلال بن ثاقب نے ڈیجیٹل اثاثہ جات انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز سے اہم ملاقات کی۔
اجلاس میں ڈیجیٹل فنانس اور ورچوئل اثاثہ جات کے بدلتے ہوئے ریگولیٹری نظام پر تفصیل سے بات کی گئی۔ حکام کے مطابق پاکستان میں اس شعبے کو منظم کرنے کے لیے ایک واضح اور جدید فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے۔
بلال بن ثاقب نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ڈیجیٹل اثاثہ جات کی مارکیٹ کو ریگولیٹ کر کے ملکی معیشت کا ایک مضبوط انجن بنایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس شعبے میں اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک مشاورتی گروپ تشکیل دیا جا رہا ہے جو ڈیجیٹل کرنسی اور ورچوئل اثاثہ جات کے لیے قانونی فریم ورک تیار کرے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مارکیٹ میں شفافیت اور قانونی وضاحت پیدا ہوگی۔
پیوارا چیئرمین نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثہ جات کے شعبے کو غیر رسمی یا گرے مارکیٹ سے نکال کر دستاویزی معیشت کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس سے نہ صرف معیشت مضبوط ہوگی بلکہ ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔
بلال بن ثاقب نے یہ بھی کہا کہ ڈیجیٹل اکانومی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ نئی ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف نو ماہ میں پیوارا کو ایک فعال اور آزاد ریگولیٹری ادارہ بنایا گیا ہے۔
پیوارا کے مطابق یہ ادارہ پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کی لائسنسنگ اور نگرانی کا واحد ذمہ دار ادارہ ہوگا۔ اس کا مقصد ایک منظم اور محفوظ ڈیجیٹل مالیاتی نظام قائم کرنا ہے۔
اجلاس میں شریک ٹیکنالوجی ماہرین نے بلال بن ثاقب کے اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا اور پیوارا کو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم ستون قرار دیا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











