عالمی تیل منڈی میں ڈالر کے بجائے چینی یوآن کا استعمال بڑھنے لگا ہے، روسی وزیر

روس نے انکشاف کیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی ادائیگیوں کے لیے امریکی ڈالر کے بجائے چینی یوآن کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
روس کے وزیر خزانہ انتون سلوانوف نے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر عالمی سطح پر تیل کی لین دین کے لیے روایتی امریکی ڈالر کے بجائے چینی یوآن کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ماسکو میں برکس کے تحت قائم نئے ترقیاتی بینک کے اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ مختلف ممالک اب امریکی ڈالر پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے متبادل اور زیادہ قابلِ بھروسہ ادائیگی کے نظام تلاش کر رہے ہیں۔
روسی وزیر خزانہ کے مطابق جو ممالک سیاسی دباؤ کا شکار ہیں، وہ چینی یوآن کو ایک محفوظ اور مستحکم کرنسی کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اب یہ رجحان صرف چین تک محدود نہیں رہا بلکہ دیگر ریاستیں بھی توانائی کے سودوں کے لیے یوآن کا انتخاب کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : یہودی صحافی پر خبروں کے ذریعے عالمی تیل منڈی میں ہیرا پھیری کا الزام
دوسری جانب معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سب سے زیادہ نقصان امریکہ کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
ایک حالیہ تجزیے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو چیلنج کیا گیا ہے کہ مقامی پیداوار امریکہ کو عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تیل کی قیمتیں عالمی طلب اور رسد سے طے ہوتی ہیں اور آبنائے ہرمز سے روزانہ ایک کروڑ بیرل تیل کی سپلائی رکنے سے عالمی منڈی میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت چار فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ ایک سو تیئیس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ چار برسوں میں بلند ترین سطح ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کے اعلان نے مارکیٹ میں مزید بے یقینی پھیلا دی ہے، جس سے عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی مندی کا شکار ہو رہی ہیں۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











