ایران امریکہ ثالثی سبوتاژ کرنے کیلئے پاکستان مخالف بھارتی و افغان پروپیگنڈا بے نقاب

فرانسیسی نشریاتی ادارے نے پاکستان کے خلاف بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ سے چلنے والی ایک بڑی سائبر مہم کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری پاکستانی ثالثی کو سبوتاژ کرنا ہے۔
فرانس کے معتبر نشریاتی ادارے فرانس 24 نے سائبر انٹیلی جنس کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے ایک منظم اور مربوط عالمی پروپیگنڈا مہم جاری ہے۔
انٹیلی جنس ڈیٹا کے مطابق بھارت اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے شر پسند عناصر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز خصوصاً ایکس (سابق ٹویٹر) پر جعلی ایرانی شناختیں اپنا کر پاکستان کے خلاف زہریلا مواد پھیلا رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ یہ نیٹ ورک مسلسل پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، تاہم اس بار اس مہم میں تیزی لانے کی خاص وجہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف جنگ خود جیتیں گے، چینی مدد کی ضرورت نہیں، صدر ٹرمپ
اس وقت پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان انتہائی حساس سفارتی ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور یہ مہم اسی ثالثی کو ناکام بنانے کے لیے شروع کی گئی ہے۔
بھارتی اور افغان آپریٹرز ایرانی صارفین کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹی کہانیاں اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان قائم ہونے والے پاکستانی سفارتی چینل کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
تاہم دشمن کی یہ تمام کوششیں اس وقت دھول میں مل گئیں، جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔
ایک رپورٹر کی جانب سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ ثالثی کے لیے پاکستانیوں پر دوبارہ غور کر رہے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ پاکستانی بہت عظیم لوگ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم بالکل شاندار طریقے سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ ان کے کام سے مکمل مطمئن ہیں۔
اس بیان نے ان تمام بھارتی اور افغان سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے، جو پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ کو کم کرنے کے لیے رچائی گئی تھیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










