ثنا یوسف قتل کیس؛ ملزم عمر حیات کو سزائے موت، انصاف کا انتظار ختم ہوا

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس میں ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے یہ تاریخی فیصلہ سنایا جس میں ملزم کو 20 لاکھ روپے جرمانہ اور دیگر دفعات میں 10 سال قید کی سزا بھی دی گئی۔
کیس کا پس منظر
ثنا یوسف کو 2 جون 2025 کو اسلام آباد میں ان کے گھر کے اندر قتل کیا گیا تھا۔ ملزم عمر حیات کو اگلے ہی دن 3 جون 2025 کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا گیا۔ عدالت میں ملزم کی کالز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس پیش کیے گئے۔ موبائل فارنزک سے ثنا کے فون میں "کاکا” کے نام سے محفوظ نمبر عمر حیات کا نکلا — جو اہم ترین شہادت ثابت ہوئی۔
عدالتی کارروائی
ملزم نے آخر تک صحت جرم سے انکار کیا اور کہا کہ ثنا یوسف سے اس کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ وکیل ملزم نے دلائل میں عجیب موقف اپنایا — کہا کہ "این جی اوز کے ڈر سے” یا "لبرل سوسائٹی کے دباؤ” میں فیصلہ نہ کیا جائے۔ جج نے وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "عدالت کو گمراہ نہ کریں۔” مدعی کے وکیل نے 2 بار سزائے موت کی استدعا کی تھی۔
یہ فیصلہ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے مقدمات میں فوری اور سخت انصاف کی ایک مثال ہے — تاہم ملزم کے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات کے پیشِ نظر یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









