جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

ڈیل نہ ہوئی تو ایران پر دوبارہ حملے کا آپشن بی تیار ہے، امریکی نائب صدر

20 مئی, 2026 08:47

امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کسی صورت ایران کو ایٹمی ملک نہیں بننے دیں گے، اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو امریکہ کے پاس دوبارہ حملے کا متبادل راستہ تیار ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت امریکی انتظامیہ کے مختلف محکموں میں ہونے والے بڑے پیمانے کے مالیاتی فراڈ سے متعلق گہرائی میں جا کر تحقیقات کر رہی ہے اور اس کا سدباب کیا جائے گا۔

جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عزم بالکل چٹان کی طرح مضبوط ہے کہ وہ ایران کے پاس کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں دیکھنا چاہتے اور اس مقصد کے لیے امریکہ نے اب تک ایران پر دباؤ بڑھانے کے حوالے سے کافی حد تک پیشرفت بھی حاصل کر لی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم کا دوبارہ آغاز کر سکتا ہے کیونکہ واشنگٹن کے پاس اس وقت ایران سے نمٹنے کے لیے صرف دو ہی راستے بچے ہیں۔

نائب صدر کے مطابق پوری دنیا کے باشعور ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ اگر ایران نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی تو خطے کے دیگر ممالک بھی لازمی طور پر اس دوڑ میں شامل ہو جائیں گے، جبکہ امریکہ دنیا کے مختلف انتہا پسند رجیمز کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کا شدید مخالف ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران ہتھیار ڈال دے گا، مغربی دنیا کی یہ سوچ بڑی غلط فہمی ہے، محسن رضائی

جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج ایران کی عسکری صلاحیت کو بڑے پیمانے پر تباہ کرنے کے اپنے بنیادی اہداف پہلے ہی حاصل کر چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب صدر ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور اس مسئلے کا پرامن حل نکالا جائے، اگر کوئی نیا معاہدہ یا ڈیل طے نہ ہو سکی تو اس کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہوگا کہ ایران دوبارہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی شہری بہترین اور انتہائی ذہین ہیں، مگر تہران کی مذاکراتی ٹیم نے اب تک ہونے والی بات چیت میں انتہائی سخت اور ہارڈ لائن پوزیشن اختیار کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے کبھی کبھی امریکی انتظامیہ کو یہ سمجھنے میں بھی مشکل پیش آتی ہے کہ ایرانی ٹیم کی اصل پوزیشن اور نیت کیا ہے۔

نائب صدر کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ ایرانی ٹیم کو مواصلات اور کمیونیکیشن کے مسائل درپیش تھے یا ان کی نیت ہی صاف نہیں تھی، لیکن امریکہ نے ہمیشہ صاف نیت کے ساتھ بات چیت کی اور اپنی پوزیشن کو مکمل واضح کیا۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ایٹمی پروگرام پر اب محض زبانی یقین دہانیاں نہیں چاہئیں بلکہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ دونوں ممالک مل کر اس پر کام کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی حکام اب واقعی ایک نیا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کے باوجود امریکہ کے پاس متبادل کے طور پر آپشن بی یہی ہے کہ ایران پر دوبارہ فوجی حملہ شروع کر دیا جائے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ ذاتی طور پر نہیں چاہتے کہ ایران پر دوبارہ حملے ہوں لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو آپشن بی پر عمل درآمد کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔