جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

میناب اسکول میزائل تنصیب کی حدود میں نہیں تھا، امریکی کمان کا دعویٰ جھوٹ کا پلندہ ہے، ایران

20 مئی, 2026 09:36

ایران کی وزارت خارجہ نے میناب کے اسکول پر امریکی حملے سے متعلق امریکی مرکزی کمان کے دعوے کو سراسر جھوٹ اور جنگی جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی فوج کی مرکزی کمان کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس میں میناب کے شجرہ طیبہ اسکول پر ہونے والے ہولناک حملے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس بزدلانہ امریکی حملے میں 170 سے زائد معصوم طالبات اور اساتذہ شہید ہو گئے تھے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں ایرانی ترجمان نے امریکی مرکزی کمان کے اس مؤقف کو مضحکہ خیز قرار دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ لڑکیوں کا یہ پرائمری اسکول ایک میزائل تنصیب کی حدود میں واقع تھا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ دعویٰ ایک گھناؤنا جھوٹ اور من گھڑت کہانی ہے کیونکہ اسکول کے اوقات میں ایک متحرک تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانا عالمی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور واضح جنگی جرم ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تکنیکی غلط بیانیوں کے ذریعے کسی بھی سویلین مقام کی اصل حیثیت کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اس سفاکانہ حملے کا حکم دینے اور اس پر عمل درآمد کرنے والے امریکی فوجی کمانڈروں اور حکام کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

دوسری جانب اس حملے کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک آزاد عالمی صحافتی تحقیقات نے امریکی دعوؤں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق میناب میں ایرانی اسکول پر امریکی بمباری کسی تکنیکی خرابی یا مصنوعی ذہانت کے نظام کی غلطی نہیں بلکہ سراسر انسانی نظام کی نااہلی اور فاش غلطی کا نتیجہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ میں 42 امریکی طیارے اور ڈرونز تباہ ہوئے، امریکی رپورٹ میں اعتراف

اگرچہ موجودہ دور میں جدید جنگوں کے اندر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار پر بحث جاری ہے، مگر اس فضائی مہم کی گہری معلومات رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل خرابی نشانات کی شناخت اور ان کی منظوری دینے والے امریکی فوجی حکام کے طریقہ کار میں تھی۔

امریکی فوج کا ہدف بنانے کا پورا نظام تنازع سے بہت پہلے تیار کردہ ایک وسیع ڈیٹا بیس پر انحصار کرتا ہے، جسے ہزاروں تجزیہ کار سیٹلائٹ تصاویر اور خفیہ معلومات کی مدد سے تیار کرتے ہیں۔

اس مخصوص واقعے میں امریکی حکام زمین پر ہونے والی اہم اور واضح تبدیلیوں کو بھانپنے میں بری طرح ناکام رہے، جبکہ ان کے خفیہ تجزیہ کاروں نے ان عوامی معلومات کو بھی نظر انداز کر دیا، جس میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ مبینہ ایرانی پاسداران انقلاب کے احاطے کے اندر باقاعدہ ایک فعال اسکول موجود ہے۔

اس سنگین غفلت کے باعث تجزیہ کاروں نے اس مقام کو سویلین کے طور پر اپ ڈیٹ نہیں کیا اور یہ اسکول امریکی حملے کی فہرست میں برقرار رہا جو کہ ایک بہت بڑی تباہی کا سبب بنا۔

سابق سینئر امریکی فوجی حکام کا بھی ماننا ہے کہ انسانی نظام کی یہ محدودیت مستقبل میں جنگی طریقوں کے لیے ایک بڑا سبق ہے کیونکہ انسان اتنے بڑے پیمانے پر ڈیٹا کا موازنہ کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت شاید اس اسکول کی شناخت پہلے ہی کر لیتی۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔