لبنان میں حزب اللہ کے ڈرون حملوں سے اسرائیلی فوج کی کارروائیاں شدید متاثر

اسرائیلی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے مسلسل ڈرون حملوں نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی آزادانہ نقل و حرکت کو شدید حد تک محدود اور متاثر کر دیا ہے۔
اسرائیل کے سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے ڈرون حملوں کی شدت اس قدر زیادہ ہے کہ اسرائیلی فوج اب جنوبی لبنان میں دن کے وقت اپنے متعدد فوجی آپریشنز کرنے سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ چکی ہے۔
دن کے وقت ان ڈرونز کی موجودگی صیہونی فوجیوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے کئی اہم فوجی کارروائیاں دن کے وقت معطل کر دی جاتی ہیں جبکہ دیگر بہت سے آپریشنز کو ممکنہ خطرات اور ڈرون حملوں کے ڈر سے سرے سے ہی منسوخ کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کو مسلسل جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کے فوجیوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : آئی فون 17 جاسوسی کا ہتھیار بن گیا؟ اسرائیلی چپس کی موجودگی پر صارفین میں شدید خوف
اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس کے ذرائع نے حزب اللہ کی اس غیر معمولی کامیابی کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ تنظیم نے حال ہی میں اپنے روایتی منظم کمانڈ ڈھانچے کو تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نے اب گوریلا جنگی طریقہ کار اختیار کر لیا ہے، جس کے تحت وہ چھوٹے اور خود مختار سیلز پر انحصار کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ چھوٹے گروپ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں منتقل ہوتے ہوئے انتہائی تیزی کے ساتھ اسرائیلی فوج پر اچانک حملے کرتے ہیں اور فوراً اپنی پوزیشن تبدیل کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس تزویراتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کو ایک اور بڑے بحران کا سامنا ہے کیونکہ ان کے پاس ڈرون مخالف سامان اور اینٹی ڈرون آلات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق یہ حفاظتی اور دفاعی سامان پوری فوج کو فراہم کرنے کے بجائے ہر کمپنی کے صرف چند محدود فوجیوں کو ہی دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں صیہونی فوج کے اکثریتی یونٹس اور دستے حزب اللہ کے ان فضائی حملوں کے سامنے مکمل طور پر بے بس اور غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










