جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

آئی فون 17 جاسوسی کا ہتھیار بن گیا؟ اسرائیلی چپس کی موجودگی پر صارفین میں شدید خوف

20 مئی, 2026 10:41

ایپل کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے آئی فون 17 ای میں اسرائیلی تحقیق و ترقی کے مرکز کی تیار کردہ چپس کی موجودگی کے انکشاف نے سوشل میڈیا پر شدید خوف کا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔

دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے جب اپنے نئے فون ماڈل آئی فون 17 ای کی رونمائی کی، جسے ایک سستے ماڈل اور بہتر بیٹری لائف کے ساتھ پیش کیا گیا تھا، تو اس کے فوراً بعد انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر شدید تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی۔

اس شدید ردعمل اور عوامی غصے کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس نئے فون کے اندر انٹرنیٹ اور نیٹ ورکنگ سے منسلک دو اہم ترین چپس، یعنی سی ون ایکس موڈیم اور این ون وائرلیس چپ، اسرائیل کے اندر قائم ایپل کے ریسرچ اور ڈویلپمنٹ سینٹر کے تعاون سے تیار کی گئی ہیں۔

سائبر جرائم اور جاسوسی کی دنیا میں اسرائیل کے ماضی کے داغدار ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے اس پر کڑی تنقید شروع کر دی ہے۔

انٹرنیٹ پر ایسے تبصرے وائرل ہو رہے ہیں، جن میں صارفین پوچھ رہے ہیں کہ کیا انہیں یہ نیا آئی فون کسی ایسے پچھلے چور دروازے کے بغیر مل سکتا ہے، جو دھماکے سے نہ اڑ سکے، جو کہ دراصل 2024 میں لبنان میں پیجرز اور وائرلیس آلات کے ذریعے کیے گئے اسرائیلی حملوں کی طرف ایک واضح اشارہ ہے۔

کچھ صارفین نے یہ تک دعویٰ کیا ہے کہ اب اسرائیل اس چپ کی مدد سے دنیا بھر کے آئی فون صارفین کی ریئل ٹائم میں نگرانی کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : امارات اور اسرائیل کا انتہائی رازداری کے ساتھ مشترکہ جنگی فنڈ قائم کرنے کا انکشاف

عوام میں یہ خوف اور افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ایپل کمپنی نے خفیہ طور پر اسرائیلی حکومت کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کیا ہے اور یہ نیا فون اب ایک عام رابطے کے آلے کے بجائے جاسوسی اور نگرانی کے ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔

اس پینک اور عوامی خوف کی جڑیں ایپل کے اسرائیل کے ساتھ انتہائی گہرے اور پرانے تعلقات میں پیوست ہیں۔ حال ہی میں جنوری 2026 میں ایپل نے اسرائیل کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی کو خریدنے کے لیے تقریباً دو ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی ہے، جس کے پاس ایسی جدید ٹیکنالوجی موجود ہے، جو انسانی چہرے کے چھوٹے چھوٹے عضلات کی حرکات کے ذریعے سرگوشیوں، جذبات، دل کی دھڑکن کی رفتار اور یہاں تک کہ ان کہے الفاظ کو بھی بھانپنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ اسرائیل کی جن کمپنیوں کو ایپل نے خریدا ہے، ان کے بانیان اسرائیلی فوج کے بدنام زمانہ یونٹ 8200، یونٹ 81 یا اسرائیلی فضائیہ کے سابق تجربہ کار افسران ہیں، جو بڑے پیمانے پر جاسوسی اور نگرانی کے نظام کو چلانے کے ماہر مانے جاتے ہیں۔

اس سے قبل 2022 میں بدنام زمانہ پیگاسس جاسوسی سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی کے سابق ملازمین نے بھی انکشاف کیا تھا کہ موساد کے حکام نے ان کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کر کے بغیر کسی ریکارڈ کے فون ہیک کرنے کی درخواست کی تھی۔

اگرچہ امریکی حکومت نے 2026 میں اس اسرائیلی کمپنی کو بلیک لسٹ کر دیا تھا، لیکن اس پورے اسرائیلی ایکو سسٹم اور ماحول میں تیار کردہ چپ والے فون کو خریدنے سے اب دنیا بھر کے لاکھوں صارفین صاف انکار کر رہے ہیں۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔