امارات اور اسرائیل کا انتہائی رازداری کے ساتھ مشترکہ جنگی فنڈ قائم کرنے کا انکشاف

میڈیا رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران انتہائی رازداری کے ساتھ ایک اربوں ڈالر کا مشترکہ دفاعی فنڈ قائم کیا ہے، جس کا مقصد جدید ترین فضائی ہتھیاروں کی تیاری ہے۔
مشرق وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے معتبر برطانوی جریدے مڈل ایسٹ آئی نے بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل انتہائی خاموشی اور رازداری کے ساتھ مل کر ایک بہت بڑا جنگی بجٹ اور دفاعی فنڈ قائم کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے ایک مشترکہ دفاعی فنڈ شروع کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد اگلی نسل کے انتہائی جدید ترین ہتھیاروں کے نظام کو خریدنا اور انہیں خود تیار کرنا ہے۔
اس خفیہ معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات براہ راست اسرائیل کی فضائی دفاعی ٹیکنالوجی اور خاص طور پر میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے والے نظام کی تیاری کے لیے فنڈز فراہم کرے گا، جبکہ دونوں ممالک مل کر ڈرون طیاروں کو مار گرانے اور اینٹی میزائل سسٹم کی مشترکہ خریداری کی تیاریاں بھی کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ تزویراتی معاہدہ اس وقت حتمی طور پر طے پایا تھا، جب اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران امارات کا ایک انتہائی خفیہ دورہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی حملوں کا خدشہ، یو اے ای نے تیل کی تنصیبات کے گرد اینٹی ڈرون سسٹم نصب کردیا
اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فنڈ میں بہت بڑی رقم جھونکی جا رہی ہے اور یہ ادائیگیاں محض دفاعی آلات تک ہی محدود نہیں رہیں گی بلکہ اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہوگا۔
اس مشترکہ دفاعی اتحاد کی ضرورت اس وقت زیادہ شدت سے محسوس کی گئی، جب فروری کے مہینے میں امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے جواب میں ایران نے امارات کی سرزمین پر ہزاروں جوابی راکٹ اور ڈرون فائر کیے تھے۔
اس وقت تقریباً تین ہزار ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اماراتی حدود کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد اسرائیل نے ہنگامی بنیادوں پر اپنے آئرن ڈوم میزائل شیلڈ کی بیٹریاں اور اپنا فوجی عملہ امارات میں تعینات کیا تھا، جس کی تصدیق بعد میں امارات میں متعین امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی کی تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نئے اتحاد کے پیچھے ایک سادہ سی منطق ہے کہ اسرائیل کے پاس دنیا کی جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی تو موجود ہے لیکن اس وقت وہ شدید مالی بحران کا شکار ہے، جبکہ دوسری طرف متحدہ عرب امارات کے پاس بے پناہ سرمایہ موجود ہے اور وہ اپنے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جا کر پیسہ بہانے کے لیے تیار ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اب امریکی امداد پر انحصار کم کر کے اماراتی سرمائے کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










