جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

ایران توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے اپنی فوجی صلاحیتیں بحال کر رہا ہے، امریکی انٹیلی جنس

22 مئی, 2026 09:38

امریکی انٹیلی جنس کے تازہ ترین جائزوں پر مبنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تہران توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے اپنی فوجی صنعتی بنیادوں کو دوبارہ مضبوط بنا رہا ہے، جنگ بندی کے دوران ڈرونز کی پیداوار کا عمل دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس کے جائزوں سے واقف دو معتبر ذرائع کے مطابق تہران نے اپریل کے آغاز میں ہونے والی چھ ہفتوں کی جنگ بندی کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنی ان فوجی صلاحیتوں کو تیز رفتاری سے بحال کرنا شروع کر دیا ہے، جنہیں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں نقصان پہنچا تھا۔

سی این این کو چار مختلف ذرائع نے بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس کے اشارے واشنگٹن کے ابتدائی تخمینوں کے بالکل برعکس ہیں اور تہران کی فوج بہت تیز رفتاری سے خود کو دوبارہ منظم کر رہی ہے۔

اس دفاعی بحالی میں میزائل سائٹس، لانچرز کی تبدیلی اور جنگ کے دوران تباہ ہونے والے اہم ہتھیاروں کے نظام کی پیداواری صلاحیت کو دوبارہ فعال کرنا شامل ہے۔

انٹیلی جنس امور سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تیز رفتار بحالی کا مطلب یہ ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ بمباری مہم شروع کی تو تہران خطے میں واشنگٹن کے اتحادیوں کے لیے ایک بہت بڑا اور مؤثر خطرہ بن کر ابھرے گا۔

ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ اگرچہ مختلف ہتھیاروں کے پرزوں کی دوبارہ پیداوار شروع کرنے کا وقت الگ الگ ہوتا ہے، لیکن امریکی انٹیلی جنس کے بعض تخمینوں کے مطابق تہران صرف چھ ماہ کے اندر اپنی ڈرون حملہ آور صلاحیت کو مکمل طور پر بحال کر سکتا ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ایرانیوں نے انٹیلی جنس کمیونٹی کے بحالی کے تمام طے شدہ ٹائم لائنز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ خطے میں واشنگٹن کے اتحادیوں کے لیے تہران کے ڈرون حملے خاصی تشویش کا باعث ہیں کیونکہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو تہران اپنی میزائل پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکتا ہے، تاکہ تل ابیب اور خلیجی ممالک پر مسلسل حملے جاری رکھے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کو مدد کی ضرورت نہیں اکیلا کافی ہے، امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ سے نکلنا ہوگا، ایرانی عہدیدار

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق تہران کی اس غیر متوقع اور تیز رفتار بحالی کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہیں، جن میں روس اور چین کی جانب سے ملنے والی لاجسٹک اور سیاسی مدد شامل ہے اور ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل تہران کی دفاعی تنصیبات کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکے جتنی انہوں نے امید لگا رکھی تھی۔

مثال کے طور پر واشنگٹن کی مسلسل ناکہ بندی کے باوجود چین نے تنازع کے دوران تہران کو ایسے پرزہ جات کی فراہمی جاری رکھی، جنہیں میزائل بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پینٹاگون اور انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب کے شدید حملوں کے باوجود تہران نے اپنی بیلسٹک میزائل، ڈرون حملے اور طیارہ شکن صلاحیتوں کو برقرار رکھا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملٹری پروڈکشن کی فوری بحالی کا کام صفر سے شروع نہیں کیا جا رہا۔

انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق تہران کے پاس اب بھی ہزاروں ڈرونز موجود ہیں، جو اس کی کل ڈرون صلاحیت کا پچاس فیصد ہیں جبکہ اس کے ساحلی دفاعی کروز میزائل بھی بڑی تعداد میں بالکل درست حالت میں ہیں، کیونکہ واشنگٹن نے اپنی فضائی مہم میں ساحلی فوجی اثاثوں کو زیادہ نشانہ نہیں بنایا تھا۔ یہ میزائل تہران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی نقل و حرکت کو خطرے میں ڈالنے کی اہم صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

انٹیلی جنس سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کی دفاعی صنعتی بنیاد کو پہنچنے والے نقصان نے اس کی بحالی کی صلاحیت کو صرف چند مہینوں کے لیے پیچھے دھکیلا ہے نہ کہ برسوں کے لیے، اور چونکہ تہران کا دفاعی صنعتی انفراسٹرکچر اب بھی کافی حد تک برقرار ہے، اس لیے وہ اپنی صلاحیتوں کو بہت جلد دوبارہ مکمل کر لے گا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔