جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

کیا امریکہ صفوی سلطنت کی طرز پر معاشی زوال کی طرف بڑھ رہا ہے؟

22 مئی, 2026 11:57

امریکی معیشت اور ڈالر کی عالمی بالادستی خطرے میں پڑ چکی ہے، کیونکہ چین، روس، برکس اور دیگر عالمی طاقتوں نے ڈالر کا متبادل تلاش کر کے اس کے نظام کو بائی پاس کرنا شروع کر دیا۔

ایران کی صفوی سلطنت، جس نے 1501 سے لے کر 1736 تک حکومت کی، نے اپنی طاقت پیداواری صنعت پر نہیں بلکہ ریشم کی تجارت کے اہم راستوں کو کنٹرول کر کے بنائی تھی۔

اپنے علاقے سے گزرنے والی تمام تجارت پر ٹیکس لگا کر اس نے بھاری آمدنی پیدا کی، جنگوں کے لیے فنڈز فراہم کیے اور بغیر کسی بہترین ملکی معیشت کے کرنسی کی مضبوطی کو برقرار رکھا۔

یہ مالیاتی طریقہ کار سلطنت کو لامحدود مالیاتی طاقت دیتا تھا۔ امریکہ کے ساتھ یہ مماثلت بالکل سیدھی اور واضح ہے۔ 1974  سے، جب سعودی عرب نے تیل کی قیمت ڈالر میں طے کرنے پر اتفاق کیا، امریکہ کو اپنی کرنسی کی عالمی سطح پر ساختی مانگ سے فائدہ حاصل ہوا، جس نے واشنگٹن کو مہنگی غیر ملکی جنگیں لڑنے کی اجازت دی، اور ڈالر دنیا کی محفوظ ترین کرنسی رہا۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کی وجہ سے ہی امریکی تہذیب کا وجود قائم ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ

تاہم، جس طرح پرتگالی اور ڈچ تاجروں نے بالآخر کیپ آف گڈ ہوپ کے ذریعے صفوی تجارتی راستوں کو بائی پاس کر دیا تھا، اسی طرح اب ڈالر کے نظام کو بھی بائی پاس کیے جانے کے واضح آثار دکھائی دے رہے ہیں۔

اب ڈالر کی بالادستی مسلسل کمزور ہو رہی ہے اور ایران و چین کے درمیان تیل کی 90 فیصد تک تجارت اب یوآن میں ہو رہی ہے۔

عالمی زرمبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کا حصہ 57 فیصد تک گر چکا ہے، جو کہ 25 سال کی کم ترین سطح ہے۔ چین کے تعاون سے چلنے والے ایم برج پلیٹ فارم نے 387.2 ملین رینمنبی کے سرحد پار پے منٹس پروسیس کیے ہیں، جن میں سے 95 فیصد ڈیجیٹل یوآن میں چین، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات، تھائی لینڈ اور سعودی عرب کے درمیان ہوئے۔

اس کے علاوہ برکس، آسیان اور ارجنٹائن بھی ڈالر کے متبادل پر بات چیت کر رہے ہیں۔  متحدہ عرب امارات نے یوآن اپنانے کی دھمکی دینے کے بعد ڈالر سویپ لائن حاصل کر لی ہے۔

کیا امریکہ کا زوال بھی ویسا ہی ہوگا، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا ڈالر کی ساختی مانگ کو بچایا جا سکتا ہے یا نہیں، کیونکہ دنیا پہلے ہی ایک دوسرا راستہ تلاش کر رہی ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔