منگل، 19-مئی،2026
منگل 1447/12/02هـ (19-05-2026م)

سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدے پر غور، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر کے خاتمے کا آغاز

19 مئی, 2026 11:27

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور ایران کے درمیان ایک تاریخی عدم جارحیت کے معاہدے پر غور کر رہا ہے، جو خطے سے امریکی فوجی دور کے خاتمے اور اسرائیل کی تنہائی کا سبب بن سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور دفاعی توازن میں ایک ایسی تاریخی اور دور رس تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، جو خطے سے امریکی اور اسرائیلی بالادستی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر سکتی ہے۔

معروف عالمی جریدے فنانشل ٹائمز کی ایک حالیہ خصوصی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی تمام ریاستوں اور ایران کے درمیان عدم جارحیت کے ایک بہت بڑے اور جامع معاہدے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، جس کی بنیاد سرد جنگ کے زمانے میں ہونے والے تاریخی ہیلسنکی معاہدے کی طرز پر رکھی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کو اب اس بات کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری حالیہ جنگ کے ختم ہوتے ہی خطے میں موجود امریکی فوج کی ایک بہت بڑی تعداد اور فوجی موجودگی کو مستقل طور پر کم کر دیا جائے گا۔

اس خوف کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ جیسے معتبر امریکی اخبارات پہلے ہی یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور ان کے فضائی دفاعی نظام یعنی ایئر ڈیفنس انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا کر ناکارہ کر دیا ہے، جبکہ تہران نے بھی یہ واضح اور دوٹوک سگنل دے دیا ہے کہ وہ اب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودگی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔

خلیجی ممالک اب یہ اچھی طرح محسوس کر رہے ہیں کہ امریکہ ان کا تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے، جیسا کہ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے معتبر جریدے دی اکانومسٹ کے لیے لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں واضح کیا کہ عرب ممالک اب امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی تعاون کو ایک شدید کمزوری اور خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو ان کی موجودہ سلامتی اور مستقبل کی معاشی خوشحالی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں، قومی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ایرانی صدر

خلیجی ممالک اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے باوجود ایران عسکری طور پر انتہائی مضبوط ہے اور اس کے پاس بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی ایک ہولناک اور ناقابلِ شکست صلاحیت موجود ہے، جبکہ ایران نے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل اور مؤثر کنٹرول بھی ثابت کر دیا ہے، جو خلیجی ممالک کی توانائی کی تجارت کے لیے ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔

فنانشل ٹائمز کے ذرائع کے مطابق اگرچہ خلیجی ممالک اسرائیل اور ایران دونوں کو ہی خطے میں تنازعات کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھتے ہیں اور دونوں کو کسی ایک معاہدے میں لانا ناممکن ہے، لیکن عرب ممالک اب اسرائیل کے بجائے ایران کے ساتھ ڈیل کرنے اور معاہدہ کرنے کے لیے زیادہ بے تاب نظر آتے ہیں۔

اس ممکنہ معاہدے کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ اس سے ایران مسلم دنیا کی ایک بڑی طاقت اور خطے کے مرکزی کھلاڑی کے طور پر ابھرے گا، جبکہ اسرائیل کے ساتھ کیے گئے ابراہیمی معاہدے اپنی اہمیت کھو کر تاریخ کے مزار کا حصہ بن جائیں گے۔

اس کے ساتھ ہی یہ معاہدہ خلیج میں امریکی فوج کے دور کے خاتمے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دے گا کیونکہ جب تک امریکی فوج خطے میں رہے گی، تہران کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔

رپورٹ میں یہ سنسنی خیز پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب درحقیقت متحدہ عرب امارات پر ایران کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو خاموشی سے خوش آئند سمجھ رہا ہے کیونکہ اسرائیل کے قریبی ترین خلیجی شراکت دار متحدہ عرب امارات کے ساتھ سعودی عرب کی دشمنی اور مسابقت میں 2026 کے آغاز سے شدید اضافہ ہوا ہے۔

اس خلیجی رقابت کی بنیادی وجوہات یمن اور سوڈان میں دونوں ممالک کے متصادم مفادات، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے معاشی منصوبے ویژن 2030 کے تحت بڑھتا ہوا معاشی مقابلہ، متحدہ عرب امارات میں بڑھتا ہوا اسرائیلی اثر و رسوخ اور سعودی ولی عہد اور اماراتی صدر محمد بن زاید آل نھیان کے درمیان بڑھتی ہوئی شدید بداعتمادی ہے، جس کا تذکرہ بدنام زمانہ ایپسٹین فائلوں میں بھی سامنے آ چکا ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔