ایران جنگ سے سبق، چین کا بڑا توانائی منصوبہ، صحرا میں دنیا کا سب سے بڑا خودکار صنعتی مرکز قائم

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے گرد جاری جنگی صورتحال کے باعث عالمی تیل، گیس اور کیمیکل سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہے، لیکن چین نے اس بحران کے مقابلے کے لیے ایک غیر معمولی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے۔
چین کے صوبے سنکیانگ میں واقع صحرائے گوبی کی گہرائی میں بیجنگ تیزی سے دنیا کے سب سے بڑے اور جدید خودکار توانائی و صنعتی مراکز میں شمار کیے جانے والے ژونڈونگ نیشنل اکنامک اینڈ ٹیکنالوجیکل ڈیولپمنٹ زون کو وسعت دے رہا ہے، جسے مستقبل کی توانائی خود کفالت کا ستون قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ وسیع صنعتی زون ایسے کوئلے کے ذخائر پر قائم کیا جا رہا ہے، جن کا تخمینہ تقریباً تین سو نوے ارب ٹن لگایا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مقدار خلیج فارس کے کئی اہم ممالک کے مجموعی ثابت شدہ تیل کے ذخائر سے بھی زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم چین اس کو صرف روایتی کوئلہ کان کنی کے منصوبے کے طور پر استعمال نہیں کر رہا بلکہ اسے جدید صنعتی اور توانائی انقلاب میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ژونڈونگ زون میں کان کنی کا نظام تیزی سے مکمل آٹومیشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہاں الیکٹرک خودکار ٹرک استعمال کیے جا رہے ہیں، جو بغیر ڈرائیور کے خود راستے طے کرتے ہیں، اپنی بیٹریاں صرف چھ منٹ میں تبدیل کرتے ہیں، پورا نظام ایک مرکزی کنٹرول روم سے محض چند افراد کی نگرانی میں چلایا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت تقریباً ستر فیصد کان کنی کے آلات مکمل طور پر الیکٹریفائیڈ ہو چکے ہیں، جبکہ رواں سال کے اختتام تک نوے فیصد تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کی ڈکٹیشن کا خاتمہ، چین اور روس نے مل کر دنیا کا نیا سائنسی نظام قائم کر دیا
اس منصوبے کی سب سے اہم اسٹریٹجک خصوصیت یہ ہے کہ چین اب خام کوئلہ صرف نکال کر فروخت نہیں کر رہا بلکہ اسی مقام پر اس کی پروسیسنگ کر کے اسے بجلی، ایلومینیم، مصنوعی گیس، میتھانول اور اعلیٰ درجے کے صنعتی کیمیکلز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
یہ تمام مصنوعات چین کی صنعتی معیشت، مینوفیکچرنگ سیکٹر اور توانائی ضروریات کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں، جبکہ ان کی عالمی مارکیٹ میں بھی بلند قدر موجود ہے۔
اس وسیع توانائی نظام کو چین کے صنعتی مشرقی علاقوں تک منتقل کرنے کے لیے دنیا کی سب سے زیادہ وولٹیج والی پاور ٹرانسمیشن لائن بھی تعمیر کی گئی ہے، جسے پلس مائنس گیارہ سو کلو وولٹ ژونڈونگ وانان لائن کہا جاتا ہے۔
یہ لائن سنکیانگ سے صوبہ انہوئی تک تین ہزار تین سو کلومیٹر سے زائد فاصلے پر بجلی منتقل کرتی ہے، جس سے چین کے بڑے صنعتی مراکز کو مسلسل توانائی فراہم کی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ چین ایک بڑی کوئلہ سے گیس بنانے والی پائپ لائن بھی تیار کر رہا ہے، جو قومی گیس نیٹ ورک کو سپلائی فراہم کرے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری عدم استحکام اور عالمی توانائی منڈیوں میں ممکنہ بحرانوں کے خدشات نے بیجنگ کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایک ایسی اندرونی صنعتی اور توانائی بنیاد قائم کرے جو بیرونی سپلائی چین کے جھٹکوں سے نسبتاً محفوظ ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ چین کی توانائی خود کفالت، صنعتی تحفظ اور جیو پولیٹیکل حکمت عملی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ایک بڑا خطرہ بھی جڑا ہوا ہے۔
صحرائے گوبی جیسے خشک خطے میں پانی کی شدید کمی ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ کوئلے اور کیمیکل کی صنعتیں بھاری مقدار میں پانی استعمال کرتی ہیں۔
ناقدین کے مطابق اگر پانی کے بحران کا مستقل حل نہ نکالا گیا تو مستقبل میں اس بڑے صنعتی منصوبے کو ماحولیاتی اور عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










