جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

چین کا جدید مربوط جنگی نظام، روبوٹس، ڈرونز اور توپ خانے کا امتزاج

22 مئی, 2026 13:20

چین نے فوج کی حالیہ تربیتی مشقوں کے دوران گھنے جنگلاتی علاقے میں ایک مکمل مربوط جنگی نظام کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جس میں روبوٹس، ڈرونز اور جدید توپ خانے کو ایک نیٹ ورک سے جوڑ دیا گیا۔

چین نے اپنی حالیہ فوجی تربیتی مشقوں میں ایک ایسے جدید مربوط جنگی نظام کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے، جسے عسکری ماہرین مستقبل کی جنگی حکمت عملی میں ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

گھنے جنگلاتی علاقے میں ہونے والی ان مشقوں کے دوران چینی فوج نے روبوٹس، جاسوس ڈرونز، جدید توپ خانے اور فرنٹ لائن انفنٹری کو ایک ہی ڈیجیٹل نیٹ ورک میں جوڑ کر جنگی کارروائیوں کی رفتار اور درستگی کا عملی مظاہرہ کیا، جس نے پینٹاگون میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔

چینی فوج کے اس نئے ماڈل میں جنگی کارروائی کا آغاز جاسوس ڈرونز اور زمینی روبوٹس سے ہوتا ہے، جو میدانِ جنگ میں داخل ہو کر دشمن کی پوزیشنوں، مورچوں اور فائرنگ پوائنٹس کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ تمام معلومات فوری طور پر ایک متحرک کمانڈ گاڑی تک پہنچائی جاتی ہیں، جہاں کمانڈرز اور آپریٹرز حقیقی وقت میں ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں اور حملے کے لیے اہداف طے کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ سے سبق، چین کا بڑا توانائی منصوبہ، صحرا میں دنیا کا سب سے بڑا خودکار صنعتی مرکز قائم

اس کے بعد چینی فوج کے جدید پی ایل ایل-09 پہیوں والے ہووٹزر متحرک انداز میں کارروائی کرتے ہیں اور تصدیق شدہ اہداف پر انتہائی تیز رفتار اور درست حملے کرتے ہیں۔

عسکری ماہرین کے مطابق اس پورے عمل میں ہدف کی شناخت سے لے کر حملے تک کا وقت انتہائی کم کر دیا گیا ہے، جس سے میدان جنگ میں ردعمل کی رفتار کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

مشقوں کے آخری مرحلے میں حملہ آور دستے پیش قدمی کرتے ہیں، تاہم اس بار انہیں صرف روایتی فوجی مدد حاصل نہیں ہوتی بلکہ روبوٹک کتوں، چھوٹے حملہ آور ڈرونز اور کامیکازی یعنی خودکش ڈرونز کی معاونت بھی حاصل ہوتی ہے۔

یہ ڈرونز دشمن کی باقی ماندہ فائرنگ پوزیشنوں کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ روبوٹک سسٹمز خطرناک علاقوں میں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر آپریشن جاری رکھتے ہیں۔

اس ماڈل کا بنیادی مقصد میدان جنگ میں معلومات، فیصلہ سازی اور حملے کے درمیان تاخیر کو تقریباً ختم کرنا ہے تاکہ دشمن کو ردعمل کا کم سے کم وقت مل سکے۔

اس قسم کے مربوط جنگی نظام مستقبل کی جنگوں کی نوعیت بدل سکتے ہیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت، خودکار روبوٹکس اور نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر اب عسکری طاقت کا مرکزی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ چینی پیش رفت نے امریکہ اور مغربی دفاعی اداروں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا امریکہ عسکری روبوٹکس اور خودکار جنگی انضمام کے میدان میں چین کا مؤثر مقابلہ کر سکے گا یا نہیں۔

اگر چین اسی رفتار سے مصنوعی ذہانت، خودکار اسلحہ نظام اور نیٹ ورکڈ وارفیئر میں پیش رفت جاری رکھتا ہے تو آنے والے برسوں میں عالمی عسکری توازن خصوصاً ایشیا پیسیفک خطے پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جہاں امریکہ اور چین کے درمیان اسٹریٹجک مقابلہ پہلے ہی شدت اختیار کر چکا ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔