ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز پر ٹیکس لگانے کا پلان زیر غور

ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر غور کر رہا ہے، جس سے امریکی ٹیک کمپنیوں اور وال اسٹریٹ کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی فائبر آپٹک زیرِ سمندر کیبلز پر اسی طرح ٹیکس یا فیس عائد کرنے کی تجویز پر فعال بحث جاری ہے، جیسے بحری جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کی جاتی ہے۔
اسلامی انقلابی گارڈز کور کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے نو مئی کو اس معاملے کو سوشل میڈیا پر اٹھایا تھا۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت گوگل، مائیکروسافٹ، میٹا اور ایمیزون جیسی بڑی کثیر القومی کمپنیوں کو ایرانی قوانین کے تحت کام کرنا ہوگا اور آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس میں کیبلز بچھانے اور چلانے کے لیے لائسنس کی فیس ادا کرنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ نے اسرائیل سے زیادہ میزائل فائر کیے، دونوں ممالک میں تناؤ
رپورٹ کے مطابق ایرانی کمپنیوں کو ان کیبلز کی دیکھ بھال اور مرمت کے خصوصی حقوق حاصل ہوں گے۔ اگرچہ ایران نے کیبلز کو براہ راست کوئی نقصان پہنچانے کی دھمکی نہیں دی، تاہم ایرانی میڈیا نے اشارہ دیا ہے کہ ان کیبلز کو کسی بھی بلاواسطہ یا بالواسطہ نقصان سے عالمی معیشت کو کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے اور یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان انٹرنیٹ کا رابطہ منقطع ہو سکتا ہے۔
یہ بھی واضح نہیں ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود امریکی کمپنیاں ایران کو یہ فیسیں کیسے ادا کریں گی۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بڑی کیبلز میں ایشیا افریقہ یورپ ون، فالکن نیٹ ورک اور گلف برج انٹرنیشنل شامل ہیں، جن میں سے فالکن اور گلف برج ایران کے پانیوں سے گزرتی ہیں۔
ٹائم میگزین کے مطابق دنیا کا 99 فیصد انٹرنیٹ ٹریفک اور روزانہ دس ٹریلین ڈالر کے مالیاتی لین دین انھی کیبلز کے ذریعے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ایران کے پاس عالمی معیشت کو ڈبل جھٹکا دینے کی صلاحیت موجود ہے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












