پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو اسٹریم بند ہونے کی خبروں پر اصل حقائق سامنے آ گئے

پاکستان میں ٹک ٹاک کی لائیو اسٹیکنگ سروس پر پابندی کی خبروں پر انتظامیہ اور ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ فیچر فی الوقت پاکستانی سمز پر دستیاب ہی نہیں بلکہ غیر ملکی سمز سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں ایک بار پھر مقبول ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کے لائیو اسٹیکنگ فیچر پر پابندی کے حوالے سے مختلف خبریں اور افواہیں گردش کر رہی ہیں، جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس فیچر کو بند کرنے کا فیصلہ کر رہی ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ ٹک ٹاک کا لائیو فیچر اس وقت پاکستان کے مقامی نمبرز پر باضابطہ فعال ہی نہیں ہے۔ ملک میں دکھائی دینے والے لائیو اکاؤنٹس دبئی، برطانیہ یا دیگر ممالک کی سمز اور وی پی این کی مدد سے لوکیشن تبدیل کر کے لائیو آتے ہیں۔ اس تکنیکی پیچیدگی کے باعث پی ٹی اے کے لیے اس پر براہ راست پابندی لگانا مشکل بنا ہوا ہے۔
ٹک ٹاک انتظامیہ نے ایک ای میل میں اس معاملے پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹک ٹاک لائیو فی الحال پاکستان میں دستیاب نہیں ہے اور جو صارفین لائیو اتے دکھائی دیتے ہیں، وہ غیر رسمی طریقے استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستانی موبائل صارفین کیلئے پی ٹی اے نے ٹیرف معلومات تک رسائی آسان کردی
انتظامیہ کے مطابق پلیٹ فارم کی حفاظت ان کی پہلی ترجیح ہے اور کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کو فعال انداز میں ہٹایا جاتا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی اے حکام اس فیچر کی رسائی محدود کرنے کے لیے ٹک ٹاک سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
سوشل میڈیا ماہرین اور عبدالحئی صدیقی کا کہنا ہے کہ لائیو اسٹاکنگ کے دوران ‘پی کے میچز’ اور ‘لائیو گفٹنگ’ کے نام پر ورچوئل تحائف حاصل کیے جاتے ہیں، جو بعد میں ڈالرز میں تبدیل ہوتے ہیں۔
فوری مقبولیت اور مالی فائدے کے لیے بعض کری ایٹرز غیر اخلاقی مواد اور نازیبا حرکات کرتے ہیں، جنہیں ریئل ٹائم میں فلٹر کرنا مشکل ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ بیرون ملک کی سمز کے استعمال سے منی لانڈرنگ اور ٹیکس سے متعلق قانونی خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں آن لائن جوئے کی ایپس کی تشہیر پر بعض انفلوئنسرز پر کارروائی بھی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت اس فیچر کو پاکستانی سمز پر آن کرنے کی اجازت دے تو شاید ریگولیشن اور نگرانی آسان ہو سکے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











