امریکہ اور چین کے درمیان کوانٹم کمپیوٹر کو جنگی ہتھیار بنانے کی دوڑ تیز

امریکی ادارے اور چین کے درمیان کوانٹم کمپیوٹنگ کو جنگی ہتھیار بنانے کی دوڑ تیز ہو گئی ہے، چین نے اپنا نیا سپر کنڈکٹنگ کوانٹم کمپیوٹر ووکانگ 180 متعارف کروا کر برتری حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کی ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی (ڈارپا) اور چین کے درمیان میدانِ جنگ میں بالادستی حاصل کرنے کے لیے کوانٹم کمپیوٹنگ کو ہتھیار بنانے کی دوڑ شروع ہو گئی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی فوج کو لاجسٹکس، کوآرڈینیشن اور وسائل کے استعمال پر فوری فیصلے کرنے، غیر معمولی درستگی کے ساتھ جنگی نقلی نظام (سیمولیشنز) تیار کرنے اور انتہائی محفوظ مواصلات فراہم کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، جس سے دشمن کے کوڈز کو توڑنا اور سائبر جنگ آسان ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افریقہ میں چینی اثر و رسوخ نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا، معدنی وسائل پر کنٹرول بڑھ گیا
اس کے علاوہ اس سے نئے ہتھیاروں کی تیز رفتار تحقیق، آبدوزوں اور زیرِ زمین بنکروں کا پتہ لگانے والے کوانٹم سینسرز اور اسٹیلتھ طیاروں کو پکڑنے والے کوانٹم ریڈار سسٹمز بنانا ممکن ہو جائے گا۔
ڈارپا نے اس سلسلے میں متعدد بڑے پروگرام شروع کیے ہیں، جن میں کوانٹم بینچ مارکنگ انیشیٹو کے تحت 2033 تک بڑے پیمانے پر کوانٹم کمپیوٹر تیار کرنا، کوانٹم اگمنٹڈ نیٹ ورک اور ہیٹروجینئس آرکیٹیکچرز فار کوانٹم شامل ہیں۔
دوسری جانب چین نے اس شعبے میں بڑی پیش رفت کی ہے اور حال ہی میں اپنا نیا سپر کنڈکٹنگ کوانٹم کمپیوٹر ووکانگ ایک سو اسی متعارف کروایا ہے، جو مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ کوانٹم چِپ، سافٹ ویئر اور کنٹرول سسٹمز پر مبنی ہے۔
چینی کوانٹم سیکٹر نے سال 2026 کے اوائل میں صرف تین ماہ کے دوران 32 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے، جو 153 کمپنیوں میں مجموعی طور پر ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کی فنڈنگ کا حصہ ہے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












