جمعرات، 2-جولائی،2026
جمعرات 1448/01/17هـ (02-07-2026م)

وفاقی حکومت نے درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کردی

02 جولائی, 2026 12:28

وفاقی حکومت نے درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ نافذ کر دیا ہے۔ اس فیصلے پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں درآمدی اسمارٹ فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ اب اس فیصلے کے نافذ ہونے کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مختلف برانڈز کے موبائل فونز کی قیمتوں میں مرحلہ وار کمی آئے گی۔

پاکستان میں درآمدی موبائل فونز کی قیمت صرف ریگولیٹری ڈیوٹی پر منحصر نہیں ہوتی۔ ان پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، پی ٹی اے رجسٹریشن فیس اور دیگر سرکاری ٹیکس بھی لاگو ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قانونی طور پر درآمد کیے گئے موبائل فونز کی قیمتیں زیادہ رہتی ہیں۔ تاہم ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی سے درآمدی لاگت کم ہونے کی توقع ہے، جس کا اثر جلد مارکیٹ قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق 50 ہزار روپے مالیت کے موبائل فون کی قیمت میں تقریباً 4 سے 6 ہزار روپے تک کمی آ سکتی ہے۔ ایک لاکھ روپے کے فون کی قیمت 8 سے 10 ہزار روپے تک کم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ڈیڑھ لاکھ روپے کے فون میں 10 سے 12 ہزار روپے، دو لاکھ روپے کے فون میں 12 سے 14 ہزار روپے اور تین لاکھ روپے کے موبائل فون میں 15 سے 20 ہزار روپے تک کمی متوقع ہے۔

 اگر کسی فون کی قیمت چار لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہے تو اس میں 20 سے 35 ہزار روپے تک کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اصل قیمت میں کمی کا انحصار برانڈ، ماڈل، درآمدی لاگت، پی ٹی اے ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیز پر ہوگا۔

200 سے 300 امریکی ڈالر مالیت والے اسمارٹ فونز کی کیٹیگری میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پاکستانی مارکیٹ میں اسی قیمت کے فونز کی فروخت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ متوسط طبقے کے صارفین کو اس فیصلے سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔