اسرائیلی فوج کی جانب سے 1800 سے زائد فلسطینی بچوں کو حراست میں لینے کا انکشاف

اسرائیلی افواج نے اکتوبر 2023 سے اب تک 1800 سے زائد فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے، جنہیں بدترین حالات میں قید رکھا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سے سیکڑوں فلسطینی بچوں اور نوعمر لڑکوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں بتسلیم اور ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل فلسطین کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 1800 فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں سے 1200 سے زائد بچوں کو مغربی کنارے پر فوجی چھاپوں کے دوران پکڑا گیا۔
ان میں سے 350 بچوں پر اسرائیل نے باقاعدہ دہشت گرد کا لیبل لگا کر انہیں مجدو اور عوفر نامی جیلوں کے انتہائی سخت حالات میں قید کر رکھا ہے، جبکہ باقی بچوں بشمول دس سال یا اس سے کم عمر کے بچوں کی بڑی تعداد کو بغیر کسی الزام یا ٹرائل کے انتظامی حراست کے فوجی قانون کے تحت خفیہ شواہد کی بنیاد پر نامعلوم مدت کے لیے قید کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امدادی بحری بیڑے پر اسرائیلی فوجیوں کا خاتون کارکن سے جنسی ہراسانی اور تشدد کا انکشاف
رپورٹ کے مطابق اسرائیل شہید ہونے والے فلسطینیوں کو بغیر نام اور تاریخِ پیدائش کے صرف شناختی نمبرز لگا کر قبرستان میں دفن کر دیتا ہے اور ان کے خاندانوں کو اطلاع بھی نہیں دی جاتی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں، ڈاکٹروں اور خود اسرائیلی سیاست دانوں نے بھی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے اعضاء نکال کر بلیک مارکیٹ میں فروخت کرنے کی تصدیق کی ہے، تاہم بچوں کے اعضاء نکالنے کے ٹھوس شواہد اس لیے سامنے نہیں آپاتے کیونکہ اسرائیل ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
فلسطینی قیدیوں کے تحفظ کے مرکز کے مطابق اسرائیل 1967 سے اب تک 55 ہزار 500 سے زائد بچوں کو گرفتار کر چکا ہے، جن میں سے بیشتر کا انجام آج تک معلوم نہیں ہو سکا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










