پاکستان کا کروایا ہوا ایران امریکہ معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط کے باعث ٹوٹ گیا، منیر اکرم

منیر اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والا ایران امریکہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی نئی شرط کے باعث عملاً ٹوٹ چکا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم نے ایک ٹی وی پروگرام میں میزبان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جو ایران امریکہ معاہدہ کروایا تھا، وہ اب نئی شرط سامنے آنے کے بعد ٹوٹ چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کو ناکام بنانے میں اسرائیلی لابی پوری طرح کامیاب ہوئی ہے اور انہوں نے ہی یہ ترکیب ڈھونڈی ہے کیونکہ اسرائیل کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلم ممالک ابراہام اکارڈ پر دستخط کرنے کی یہ شرط کبھی نہیں مانیں گے اور ان کے بغیر یہ معاہدہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔
منیر اکرم کے مطابق پاکستان کے لیے یہ شرط کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے اور امریکہ نے جو پوزیشن لی ہے، اس میں لچک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی، جس کے بعد اب ایران امریکہ معاہدہ ہونا ناممکن ہو گیا ہے۔
سابق مندوب کا کہنا تھا کہ اسرائیلی لابی نے امریکی انتظامیہ پر شدید دباؤ ڈالا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے دباؤ میں آ چکے ہیں، اسی لیے انہوں نے ایسی شرط لگائی ہے، جس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ ایران تنازع، فیلڈ مارشل کی خاموش اور موثر سفارت کاری کی عالمی سطح پر پذیرائی
انہوں نے کہا کہ اسرائیل دراصل چاہتا ہے کہ یہ جنگ ہر صورت جاری رہے تاکہ ایران کمزور ہو اور عرب ملکوں پر ایران کے حملے بھی ہوتے رہیں، جس کے نتیجے میں جب تمام فریقین کا نقصان ہو جائے تو آخر میں صرف اسرائیل کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسری طرف امریکہ کو اس جنگ کو روکنے کی شدید ضرورت تھی کیونکہ جنگ کے اثرات ان کی اپنی معیشت پر پڑ رہے ہیں، اسی لیے امریکہ نے اب سعودی عرب اور قطر پر فوکس کر کے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
منیر اکرم کا کہنا تھا کہ اس شدید امریکی دباؤ کے باوجود موجودہ حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنا نہ تو سعودی عرب اور قطر کے لیے ممکن لگ رہا ہے اور نہ ہی پاکستان ایسا کر سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن اپنی اس پوزیشن پر قائم رہتا ہے اور خطے میں جنگ بڑھتی ہے، تو پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا کہ اس بحران کا کیا جواب دیا جائے، کیونکہ ایسی صورت میں ایران کو بھی یہ سمجھانا ہوگا کہ وہ قطر اور دیگر عرب ممالک پر حملے نہ کرے۔
منیر اکرم نے کہا کہ اب جبکہ امریکہ اپنے ہی کیے گئے معاہدے سے پیچھے ہٹ چکا ہے، تو پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کو خود سوچنا ہوگا کہ خطے کو اس تباہ کن جنگ سے کیسے نکالا جائے، تاہم اگر امریکہ اس کڑی شرط کو واپس لے لے تو معاہدہ اب بھی ممکن ہے کیونکہ امریکہ دھمکیوں یا دباؤ کے ذریعے مسلم ممالک کو اسرائیل تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









