امریکی افواج کو عراق اور ایران میں نہیں ہونا چاہیے تھا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی فوج کو ماضی میں عراق کے شہر بغداد اور اب ایران کے اندر بالکل نہیں ہونا چاہیے تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ماضی میں عراق پر ہونے والی امریکی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ امریکی افواج کو نہ تو کبھی بغداد میں ہونا چاہیے تھا اور نہ ہی اب ایران کے اندر ہونا چاہیے تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ آپ دیکھیں کہ عراق میں کیا ہوا، ہم نے وہاں بہت برا کام کیا، جو کچھ ہم نے کیا وہ ایک انتہائی بیوقوفانہ اقدام تھا اور ہمیں وہاں سرے سے ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران میں بھی نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن ایران کے پاس بڑی صلاحیت موجود ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ہم نو ماہ پہلے اپنے بی ٹو بمبار طیاروں سے ایران پر حملہ نہ کرتے تو اس وقت ان کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہوتے اور پھر کہانی بالکل مختلف ہوتی، ایسی صورت میں شاید اسرائیل کا وجود ہی نہ رہتا اور نہ ہی مشرق وسطیٰ بچتا، اور پھر کوئی نہیں جانتا کہ وہ وہاں سے آگے کہاں جاتے۔
یہ بھی پڑھیں : صدر ٹرمپ کی ایران معاہدے کی شرائط مزید سخت کرنے کی کوششیں
ٹرمپ نے یہ عجیب دعویٰ بھی کیا کہ امریکی فوج نے جان بوجھ کر ایرانی فوج کو نقصان نہیں پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کی فوج کو ایک طرح سے چھوڑ دیا، کیونکہ ہمارا خیال ہے کہ ان کی فوج کسی حد تک اعتدال پسند ہے جبکہ ان کے پاس ایسے لوگ بھی ہیں، جو اعتدال پسند نہیں تھے اور ہم نے ان کو ہٹایا ہے اور ان کی قیادت کو نشانہ بنایا لیکن فوج کو چھوڑ دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ لوگ یہ سن کر حیران ہوں گے کیونکہ جنگوں میں ایسی غلطیاں ہوتی رہی ہیں، جہاں آپ سب کو ختم کر دیتے ہیں اور پھر وہ ملک چالیس سال تک دوبارہ کھڑا نہیں ہو پاتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایران کے ساتھ ایک بہترین معاہدہ کرنے جا رہے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو ہم واپس جا کر فوجی طاقت سے کام تمام کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ معاہدہ کرنے کو ترجیح دیں گے کیونکہ اس سے بہت سی جانیں بچیں گی اور معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ہم آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول سکتے ہیں۔
انہوں نے ایران کی قیادت کو انتہائی سخت مذاکرات کار قرار دیا اور کہا کہ امریکہ آہستہ آہستہ وہ سب حاصل کر رہا ہے، جو وہ چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اس کام میں طویل وقت لگتا ہے اور مجھے کوئی جلدی نہیں ہے، کیونکہ اگر آپ جلدی کریں گے تو اچھا معاہدہ نہیں کر پائیں گے، اس لیے ہم آہستہ آہستہ لیکن یقیناً وہ حاصل کر رہے ہیں، جو ہم چاہتے ہیں اور اگر ہمیں وہ نہ ملا تو ہم اس کہانی کو دوسرے طریقے سے ختم کریں گے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









