امریکی انٹیلی جنس کے اندازے غلط نکلے، ایران کا ڈرون پروگرام دوبارہ فعال

ایران نے جنگ بندی کے دوران اپنے فوجی اور ڈرون اثاثوں کو امریکی اور اسرائیلی اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ دوبارہ بحال کر لیا ہے۔
اپریل کے آغاز سے جاری جنگ بندی کے دوران ایران نے اپنی دفاعی صنعت کو اتنی تیزی سے دوبارہ کھڑا کیا ہے، جس کی امریکی انٹیلی جنس اداروں کو بھی توقع نہیں تھی۔
ایران نے اپنی جنگی مشینری کو اس انداز میں ڈیزائن کیا ہے کہ بمباری کے باوجود اس کی پیداوار بند نہیں ہوتی۔ اس نے اپنے مشہور شاہد ڈرونز کی تیاری دوبارہ شروع کر دی ہے اور حملوں میں تباہ ہونے والے میزائل سسٹم اور لانچرز کو بھی دوبارہ تیار کر لیا ہے۔
امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کے 80 فیصد فضائی دفاعی نظام اور 800 ڈرون گوداموں کو تباہ کر دیا ہے، لیکن ایران کا یہ نیٹ ورک اس لیے بچ گیا کیونکہ اس نے اپنے ڈرون اور میزائل بنانے کے کارخانے ایک جگہ رکھنے کے بجائے پورے ملک میں پھیلا رکھے ہیں اور ان کے بڑے مراکز زمین دوز شہروں کی صورت میں زیر زمین بنے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی افواج کو عراق اور ایران میں نہیں ہونا چاہیے تھا، ڈونلڈ ٹرمپ
ایران کی ڈرون انڈسٹری بہت کم خرچ اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، جو نقصانات کو فوری پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ چین اور روس کی تکنیکی مہارت اور مدد کی وجہ سے ایران کو ان پرزوں تک مسلسل رسائی حاصل ہے، جو ڈرون اور میزائل بنانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ امریکی اتحاد کی شدید بمباری کے باوجود ایران کے دو تہائی میزائل لانچرز اب بھی بالکل محفوظ اور کام کرنے کے لیے تیار حالت میں موجود ہیں اور امریکہ کے لیے اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر روکنا ناممکن نظر آ رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










