ٹیکس دہندگان پر نادہندگان کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا، عطا تارڑ

Government Brings Taxpayer Relief
وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ٹیکس دہندگان پر نادہندگان کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ یہ بہتری حکومت کی مسلسل معاشی پالیسیوں اور مشکل فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں، لیکن موجودہ حکومت نے معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے۔
انہوں نے سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی خطرناک حد تک کم ہو چکے تھے۔ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے اور ملک کو معاشی بحران سے نکالا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے ایف بی آر میں اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔ سفارش کے کلچر کو ختم کر کے میرٹ پر مبنی نظام نافذ کیا گیا ہے۔ بندرگاہوں پر فیس لیس اپریزل کا آن لائن نظام بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ درآمدی عمل میں شفافیت آئے اور غیر ضروری تاخیر ختم ہو۔ اس کے علاوہ شوگر ملز میں جدید آئی ٹی نظام نصب کیا گیا ہے، جہاں ہر چینی کی بوری پر بارکوڈ اور کیو آر کوڈ لگایا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں شوگر سیکٹر سے 60 ارب روپے کا اضافی ٹیکس وصول کیا گیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ تمباکو کی صنعت میں ٹیکس چوری روکنے کے لیے بھی مؤثر کارروائیاں کی گئیں، جس سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچا۔ نئے ٹیکس ٹریبونلز کے قیام سے ٹیکس تنازعات جلد نمٹائے جا سکیں گے، جبکہ انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے تقریباً 800 ارب روپے کی اضافی وصولی ممکن ہوئی۔
انہوں نے بجٹ میں عوام کو دیے گئے ریلیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ اسی طرح 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن والوں کے لیے صرف ایک فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے دیگر آمدنی والے طبقات کے لیے بھی ٹیکس کی شرح میں کمی کی ہے۔ اس کے علاوہ 5 اور 10 مرلے کے گھر یا پلاٹ کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکس میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے تاکہ متوسط طبقے کو سہولت مل سکے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے کئی ٹیکس کم کیے گئے ہیں تاکہ "میڈ اِن پاکستان” مصنوعات عالمی منڈی میں بہتر مقابلہ کر سکیں۔ زرعی اور کاروباری قرضوں کی فراہمی کے منصوبوں سے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ نوجوان فائدہ اٹھائیں گے۔ حکومت دانش اسکولز، نئی یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی منصوبوں پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر کے لیے ٹیکس رعایت برقرار رکھی گئی ہے اور فری لانسرز پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ زرعی مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے تاکہ کسان جدید مشینری کم لاگت میں حاصل کر سکیں۔ حکومت نے سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس میں بھی نرمی کی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










