جمعہ، 19-جون،2026
جمعہ 1448/01/04هـ (19-06-2026م)

بچوں کے ب فارم بنوانے والے والدین کیلئے بڑی خبر آگئی

19 جون, 2026 09:43

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ بچوں کا ب فارم وقت پر بنوائیں اور اس کی مدت ختم ہونے پر فوری تجدید بھی کروائیں۔

نادرا کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد 30 دن کے اندر اس کا اندراج متعلقہ یونین کونسل میں کروانا ضروری ہے۔ پیدائش کا اندراج مکمل ہونے کے بعد والدین نادرا سے بچے کا پہلا ب فارم حاصل کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے یونین کونسل کا پیدائش سرٹیفکیٹ یا سی آر ایم ایس نمبر درکار ہوگا۔

نادرا نے مختلف عمر کے بچوں کے لیے بائیو میٹرک شرائط بھی واضح کر دی ہیں۔ تین سال سے کم عمر بچوں کے ب فارم کے لیے تصویر لازمی نہیں۔ تاہم اگر ب فارم بننے کے بعد بچے کا پاسپورٹ بنوانا ہو تو تصویر دینا ضروری ہوگی، جبکہ فنگر پرنٹس کی ضرورت نہیں ہوگی۔

تین سے دس سال کی عمر کے بچوں کے لیے ب فارم بنواتے وقت تصویر لازمی ہوگی۔ اس کے بعد 10 سے 18 سال تک کے بچوں کے لیے تصویر کے ساتھ فنگر پرنٹس بھی دینا ہوں گے۔ ان اقدامات کا مقصد بچوں کا درست ریکارڈ محفوظ رکھنا اور شناختی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

ادارے نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ ب فارم بنوانے کے لیے نادرا دفتر جاتے وقت اپنا اصل شناختی کارڈ، بچے کا پیدائش سرٹیفکیٹ یا سی آر ایم ایس نمبر ساتھ لائیں۔ اگر بچے کی عمر تین سال سے زیادہ ہے تو اسے بھی ساتھ لے جانا ضروری ہوگا تاکہ مطلوبہ بائیو میٹرک کارروائی مکمل کی جا سکے۔

نادرا نے یہ سہولت بھی فراہم کی ہے کہ شہری پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے بھی ب فارم کی درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔ اس سے دفاتر کے غیر ضروری چکر لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور وقت کی بھی بچت ہوتی ہے۔

فیس کے حوالے سے نادرا نے بتایا ہے کہ نارمل ب فارم کی فیس 50 روپے مقرر ہے، جو سات دن کے اندر جاری کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ ایگزیکٹو سروس کی فیس 500 روپے ہے، جس کے تحت ب فارم ایک ہی دن میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔